اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 506 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 506

اصحاب بدر جلد 4 506 بولے کہ واللہ ! اگر تم نے ہم کو کعبہ سے روکا تو یاد رکھو کہ پھر تمہیں بھی تمہارے شامی راستے پر امن نہیں مل سکے گا۔ہم بھی راستے میں بیٹھے ہیں ہم بھی تمہارے خلاف بہت کچھ کریں گے۔امیہ نے ان کی جو یہ بات سنی اور اسی طرح ان کا غصہ بھی دیکھا تو کہنے لگا کہ سعد دیکھو! ابو الحکم سید اہل وادی کے مقابلہ میں یوں آواز بلند نہ کرو۔کہ یہ ابوالحکم جو ہے مکہ والے ابو جہل کا نام ابو الحکم لیتے تھے ، مکہ کی وادی کا یہ سر دار ہے۔اس کے سامنے اس طرح بلند آواز سے نہ بولو۔سعد بھی غصے میں تھے اس کی یہ بات سن کے امیہ کو کہنے لگے کہ جانے دو امیہ ! تم اس بات میں نہ پڑو واللہ! مجھے رسول اللہ صلی علیکم کی پیشگوئی نہیں پھولتی کہ تم کسی دن مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل ہو گے۔یعنی امیہ جو ہے وہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل ہو گا۔یہ خبر سن کر امیہ بن خلف سخت گھبر ا گیا اور گھر میں آکر اس نے اپنی بیوی کو سعد کی اس بات سے اطلاع دی اور کہا کہ خدا کی قسم ! میں تو اب مسلمانوں کے خلاف مکہ سے نہیں نکلوں گا۔یہ یقین تھا کہ آنحضرت صلی ال نیم نے بات کی ہے اور ہمیشہ آپ کی باتیں پوری ہوتی ہیں تو میرے متعلق بھی یہ بات پوری ہو جائے گی۔لیکن تقدیر کے نوشتے پورے ہونے تھے۔بدر کے موقع پر امیہ کو مجبور امکہ سے نکلنا پڑا اور وہیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہو کر اپنے کیفر کردار کو پہنچا۔یہ امیہ وہی تھا جو حضرت بلال پر اسلام کی وجہ سے نہایت سخت 1157 مظالم کیا کرتا تھا۔امیہ بن خلف کے قتل کی پیشگوئی صحیح بخاری کی ایک روایت میں اس طرح ذکر ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن معاذ عمرے کی نیت سے چلے گئے۔حضرت عبد اللہ کہتے تھے اور وہ امیہ بن خلف ابو صفوان کے پاس اترے۔انہوں نے یہ روایت کی کہ اس کے پاس اترے۔پرانی واقفیت تھی۔امیہ حضرت سعد کے پاس مدینے میں آ کے ٹھہرا کرتا تھا اور جب آپ نے عمرے کا ارادہ کیا تو یہی سوچا کہ اس کے پاس ٹھہریں اور امن سے عمرہ کر سکیں۔امیہ کی عادت تھی کہ جب شام کی طرف جاتا تھا تو مدینے سے گزرتا تھا اور حضرت سعد کے پاس ٹھہرتا تھا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ پرانی واقفیت تھی۔وہ ان کے پاس مدینے میں ٹھہرتا تھا تو آپ نے، حضرت سعد نے بھی ارادہ کیا کہ اس کے پاس ٹھہریں۔جب آپؐ نے ذکر کیا کہ میں نے عمرہ کرنا ہے تو امیہ نے حضرت سعد سے کہا کہ ابھی انتظار کرو۔جب دو پہر ہو اور لوگ غافل ہو جائیں تو جا کر طواف کر لینا۔روایت والے کہتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ حضرت سعد طواف کر رہے تھے کیا دیکھتے ہیں کہ ابو جہل ہے۔ابو جہل اس دوران آگیا اور وہ کہنے لگا یہ کون ہے ؟ یہ کون ہے جو کعبہ کا طواف کر رہا ہے ؟ حضرت سعد نے کہا میں سعد ہوں۔خود ہی جواب دیا میں سعد ہوں۔ابو جہل بولا کیا تم خانہ کعبہ کا طواف امن سے کرو گے حالانکہ تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دی ہے۔حضرت سعد نے کہا ہاں۔تب ان دونوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔یہ راوی روایت کرتے ہیں۔امیہ نے حضرت سعد سے کہا ابو الحکم پر اپنی آواز اونچی نہ کرو کیونکہ وہ باشند گانِ وادی کا سردار ہے۔حضرت سعد نے کہا یعنی ابو جہل کو کہا بخدا ! اگر تم نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے