اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 507

اصحاب بدر جلد 4 507 مجھے روکا تو میں بھی شام میں تمہاری تجارت بند کر دوں گا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ یہ سن کر امیہ حضرت سعد سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور ان کو روکتا رہا۔حضرت سعد غصہ میں آگئے کہنے لگے ہمیں ان باتوں سے رہنے دو۔میں اور یہ ابو جہل بات کر رہے ہیں، ہمیں بات کرنے دو اور امیہ کو کہا کہ میں نے محمدصلی العلیم سے سنا ہے۔آپ صلی علیہ کم فرماتے تھے کہ امیہ کو یہی قتل کروانے والا ہے یعنی ابو جہل جو ہے یہی تمہارے قتل کا ذریعہ بنے گا۔امیہ نے کہا، مجھے ؟ حضرت سعد نے کہا ہاں۔یہ سن کر امیہ بولا اللہ کی قسم امحمد جب بات کہتے ہیں تو جھوٹی بات نہیں کہتے۔آخر وہ اپنی بیوی کے پاس واپس آیا اور کہنے لگا کیا تمہیں علم نہیں کہ میرے یثربی بھائی نے مجھ سے کیا کہا ہے ؟ اس نے پوچھا کیا کہا ؟ امیہ نے کہا کہتا ہے کہ اس نے محمد صلی علیم سے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ابو جہل ہی میرا قاتل ہو گا۔اس کی بیوی نے کہا اللہ کی قسم امحمد تو جھوٹی بات نہیں کیا کرتے (صلی اللہ علیہ وسلم)۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے تھے کہ جب وہ بدر کی طرف نکلے اور مدد طلب کرنے کے لیے فریادی آیا تو امیہ کی بیوی نے اسے کہا کہ کیا وہ جو تو بات تمہیں یاد نہیں جو تمہارے بیٹر بی بھائی نے تم سے کہی تھی۔بدر کے لیے جب نکلنے لگے تو یاد کرایا کہ یادیں تم جار ہے ہو لیکن وہ بات یاد رکھو۔کہتے تھے اس نے چاہا کہ نہ نکلے یعنی امیہ نے اس بات پر چاہا کہ نہ نکلے مگر ابو جہل نے اسے کہا کہ تم اس وادی کے رؤسا میں سے ہو تو ایک دو دن کے لیے ہی ساتھ چلو۔چنانچہ وہ ان کے ساتھ دو دن کے لیے چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قتل کر دیا۔1158 امیہ بن خلف جنگ بدر میں قتل ہوتا ہے ایک دوسری روایت میں امیہ بن خلف کے جنگ بدر میں شریک ہونے اور قتل کیے جانے کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے۔حضرت سعد نے کہا امیہ ! بخدا میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ وہ یعنی صحابہ تمہیں مار ڈالیں گے۔اس نے پوچھا مکہ میں ؟ حضرت سعد نے کہا کہ یہ میں نہیں جانتا۔امیہ حضرت سعد کی یہ بات سن کر بہت ڈر گیا۔جب امیہ اپنے گھر گیا تو اپنی بیوی صفیہ یا کریمہ بنت مُعْمر سے کہنے لگا کہ اے ام صفوان ! تو نے سعد کی بات سنی جو اس نے میرے بارے میں کہی۔بیوی نے کہا کہ کیوں سعد کیا کہتا ہے ؟ اس پر امیہ نے کہا وہ کہتا ہے کہ محمد صلی علیم نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔میں نے پوچھا کہ مکہ میں ؟ تو اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔پھر امیہ نے کہا کہ بخدا میں مکہ سے نکلوں گا ہی نہیں۔اس قدر خوفزدہ ہو گیا۔جب بدر کی جنگ ہوئی تو ابو جہل نے لوگوں سے جنگ کے لیے نکلنے کو کہا اور امیہ کو بھی کہا کہ اپنے قافلے کو بچانے کے لیے پہنچو۔امیہ نے نکلنا پسند نہیں کیا۔ابو جہل امیہ کے پاس آیا۔جب بھیجے ہوئے پیغامبر کو انکار کر دیا تو پھر ابو جہل خود آیا اور کہنے لگا کہ ابو صفوان ! جب لوگ تمہیں دیکھیں گے کہ تم ہی پیچھے رہ گئے ہو جبکہ تم اہل وادی کے سردار ہو تو وہ بھی تمہارے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ابو جہل اسے سمجھا تا رہا۔آخر امیہ نے کہا کہ اگر تم نے مجبور ہی کرنا ہے تو بخدا میں مکہ سے ایک نہایت ہی عمدہ اونٹ خریدوں گا۔اس کے بعد امیہ نے کہا ام صفوان میرے لیے سفر کا سامان تیار کرو۔اپنی بیوی سے کہا تو وہ اسے کہنے لگی کہ تم وہ بات بھول گئے ہو جو تم سے تمہارے یثربی