اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 503
اصحاب بدر جلد 4 503 اعتراض ہو تو بے شک رڈ کر دیں۔سعد نے کہا ہاں یہ مطالبہ معقول ہے اور اپنا نیزہ ٹیک کر بیٹھ گئے۔نیزہ ان کے ہاتھ میں تھا اور اکثر جو تھے وہ اس طرح ہی ہتھیار لے کے پھر ا کرتے تھے۔اور مصعب نے اسی طرح پہلے قرآن شریف کی تلاوت کی اور پھر اپنے دلکش رنگ میں اسلامی اصول کی تشریح کی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ یہ بت بھی رام تھا۔یعنی دل ان کا نرم ہو گیا اور ان پر بھی اسلام کی تعلیم کا اثر ہو گیا۔چنانچہ سعد نے مسنون طریق پر غسل کر کے کلمہ شہادت پڑھ دیا اور پھر اس کے بعد سعد اور اُسید بن حضیر دونوں مل کر اپنے قبیلہ والوں کی طرف گئے اور سعد نے ان سے اپنے قبیلے والوں سے مخصوص عربی انداز میں پوچھا کہ اے بنی عبد الاشہل تم مجھے کیسا جانتے ہو ؟ سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہمارے سردار اور سردار ابن سردار ہیں اور آپ کی بات پر ہمیں کامل اعتماد ہے۔سعد نے کہا تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں جب تک تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لاؤ۔اسی وقت تبلیغ بھی شروع کر دی۔اس کے بعد سعد نے انہیں اسلام کے اصول سمجھائے یعنی اپنے قبیلے والوں کو اسلام کے اصول سمجھائے۔تعلیم دی اور کہتے ہیں کہ ابھی اس دن پر شام نہیں آئی تھی اور دن تختم نہیں ہوا تھا کہ شام سے پہلے پہلے ہی تمام قبیلہ مسلمان ہو گیا اور سعد اور اسیڈ نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی قوم کے بت نکال کر توڑے۔سعد بن معاذ کو انصار میں وہ پوزیشن حاصل تھی جو مہاجرین میں حضرت ابو بکر ھو تھی سعد بن معاذ اور اُسید بن حضیر جو اس دن مسلمان ہوئے تھے دونوں چوٹی کے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور انصار میں تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ لاریب ان کا بہت ہی بلند مقام تھا۔کوئی شک نہیں اس میں کہ ان کا بہت بلند مقام تھا۔بالخصوص سعد بن معاذ کو تو انصارِ مدینہ میں وہ پوزیشن حاصل تھی جو مہاجرین مکہ میں حضرت ابو بکر کو حاصل تھی۔یہ نوجوان نہایت درجه مخلص، نہایت درجه وفادار اور اسلام اور بانی اسلام کا ایک نہایت جاں شار عاشق نکلا اور چونکہ وہ اپنے قبیلے کارئیس اعظم بھی تھا اور نہایت ذہین تھا۔اسلام میں اسے وہ پوزیشن حاصل ہوئی جو صرف خاص بلکہ احض صحابہ کو حاصل تھی، بہت ہی خاص صحابہ کو وہ حاصل تھی اور لاریب اس کی جوانی کی موت پر آنحضرت ملا لی لی لی کا ہے ارشاد کہ سعد کی موت پر تو رحمن کا عرش بھی حرکت میں آگیا ہے ایک گہری صداقت پر مبنی تھا۔ان کی جوانی میں موت ہو گئی تھی۔غرض اس طرح سرعت کے ساتھ اوس اور خزرج میں اسلام پھیلتا گیا۔یہو د خوف بھری آنکھ کے ساتھ یہ نظارہ دیکھتے تھے اور دل ہی دل میں یہ کہتے تھے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے۔ہجرت مدینہ کے بعد قریش مکہ کا اہل مدینہ کو دھمکی آمیز خط 1156 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کتاب سیرت خاتم النبیین میں مزید ایک جگہ تحریر فرمایا ہے کہ ابھی آنحضرت صلی اللہ ہم کو مدینہ میں تشریف لائے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ قریش مکہ کی طرف سے