اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 504 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 504

اصحاب بدر جلد 4 504 عبد اللہ بن ابی بن سلول رئیس قبیلہ خزرج اور اس کے مشرک رفقاء کے نام، مکہ والوں کی طرف سے ایک تہدیدی خط آیا کہ تم لوگ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی پناہ سے دستبر دار ہو جاؤ ورنہ تمہاری خیر نہیں ہے۔چنانچہ اس خط کے الفاظ یہ تھے کہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی محمدعلی ایم کو پناہ دی ہے اور ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یا تو تم اس کا ساتھ چھوڑ کر اس کے خلاف جنگ کرو یا کم از کم اسے اپنے شہر سے نکال دوور نہ ہم اپنا سارا لاؤ لشکر لے کر تم پر حملہ آور ہو جائیں گے اور تمہارے سارے مردوں کو تہ تیغ کر دیں گے اور تمہاری عورتوں پر قبضہ کر کے انہیں اپنے لیے جائز کر لیں گے۔جب مدینہ میں یہ خط پہنچا تو عبد اللہ اور اس کے ساتھی جو پہلے سے ہی دل میں اسلام کے سخت دشمن ہو رہے تھے۔ان کے اندر آنحضرت صلی الی ظلم کے خلاف، اسلام کے خلاف کیسے پنپ رہے تھے۔انہوں نے آنحضرت صلی علیم سے جنگ کرنے کے لیے تیاری شروع کر دی، تیار ہو گئے۔آنحضرت صلی علی کم کو جب یہ اطلاع ملی تو آپ فوراً ان لوگوں سے ملے اور ان لوگوں کے پاس گئے۔ان کو ، عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کو سمجھایا کہ میرے ساتھ جنگ کرنے میں تمہارا اپنا ہی نقصان ہے کیونکہ تمہارے ہی بھائی بند تمہارے مقابلے میں ہوں گے۔یہ لوگ جو مسلمان ہوئے ہیں یہ تمہارے قبیلے کے لوگ ہیں، تمہارے شہر کے لوگ ہیں اور جب جنگ کرو گے تو یہی لوگ میری طرف سے تمہارے خلاف لڑیں گے۔یعنی اوس اور خزرج کے مسلمانوں نے بہر حال میر اساتھ دینا ہے۔آپ نے انہیں یہ فرمایا۔پھر آپ نے فرمایا پس میرے ساتھ جنگ کرنے کے صرف یہ معنے ہوں گے کہ تم لوگ اپنے ہی بیٹوں اور بھائیوں اور باپوں کے خلاف تلوار اٹھاؤ۔اب تم خود سوچ لو کہ یہ ٹھیک ہے۔عبد اللہ اور اس کے ساتھیوں کو جن کے دلوں میں ابھی تک جنگ بعاث کی تباہی کی یاد تازہ تھی۔آپس میں یہ لڑتے رہے تھے۔اس جنگ سے بڑی تباہی پھیلی تھی۔ان کو یہ بات سمجھ آگئی کہ دوبارہ آپس میں ہی لڑنا پڑے گا اور وہ اس ارادے سے باز آگئے۔کفار مکہ کا یہود مدینہ کو ایک خط جب قریش کو اس تدبیر میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے کچھ عرصے کے بعد اسی قسم کا ایک خط مدینے کے یہود کے نام بھی ارسال کیا۔در اصل کفار مکہ کی غرض یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو اسلام کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جاوے۔دنیا سے اس کا نام ہی ختم کر دیا جائے۔مسلمان ان کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ گئے۔جب حبشہ کی پہلی ہجرت ہوئی تھی تو وہاں انہوں نے ، کافروں نے ان کا پیچھا کیا۔تو ہمیشہ پہلے دن سے ہی یہی کوشش کی تھی اور اس بات کی کوشش میں اپنی انتہائی طاقت صرف کر دی کہ نیک دل نجاشی ان مظلوم غریب الوطنوں کو مکہ والوں کے حوالے کر دے۔پھر آنحضرت صلی علیہ یکم مکہ سے ہجرت کر کے جب مدینہ آگئے تو قریش نے آپ کا تعاقب کر کے آپ کو گرفتار کر لینے میں بھی کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔پوری کوشش کی۔ہر موقع پر انہوں نے کوشش کی کہ آنحضرت صلی علیم کو یا اسلام کو کسی طرح ختم کیا جائے اور اب جب انہیں یہ علم ہوا کہ آپ صلی للی کم اور آپ کے اصحاب مدینہ پہنچ گئے ہم