اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 495 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 495

ناب بدر جلد 4 495 رکھیں۔گو ساتھ ہی یعنی یہاں آپ نے اس بات کی وضاحت بھی کر دی۔گو ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دین کے استحکام اور اس کے مفہوم کے قیام کو بھی مد نظر رکھیں، نظام جماعت چلانا بھی فرض ہے خلیفہ وقت کا اور ساتھ ہی ان کے لیے دین کے استحکام اور اس کے قیام کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔اس لیے خدا تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جہاں خلافت کا ذکر کیا وہاں بتایا ہے کہ وَ لَيْمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارتضى لَهُم خدا ان کے دین کو مضبوط کرے گا اور اسے دنیا پر غالب کرے گا۔پس جو دین خلفاء پیش کریں وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے مگر یہ حفاظت صفر کی ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ جزئیات میں وہ غلطی کر سکتے ہیں اور خلفاء کا آپس میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے مگر وہ نہایت ادنی چیزیں، معمولی چیزیں ہوتی ہیں جیسے بعض مسائل کے متعلق حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میں اختلاف رہا بلکہ آج بھی امت محمد یہ ان مسائل کے بارے میں ایک عقیدہ اختیار نہیں کر سکی مگر یہ اختلاف صرف جزئیات میں ہوتا ہے۔اصولی امور میں ان میں کبھی اختلاف نہیں ہو گا بلکہ اس کے برعکس ان میں بھی اتحاد ہو گا کہ وہ یعنی خلفاء دنیا کے ہادی اور رہنما اور اسے روشنی پہنچانے والے ہوں گے۔پس یہ کہہ دینا کہ کوئی شخص باوجود بیعت نہ کرنے کے اس مقام پر رہ سکتا ہے جس مقام پر بیعت کرنے والا ہو در حقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص سمجھتا ہی نہیں کہ بیعت اور نظام کیا چیز ہے۔مشورہ کی اہمیت اور۔۔۔مشورے کے متعلق بھی یہ یادرکھنا چاہیے کہ ایک ایکسپرٹ اور ماہر فن خواہ وہ غیر مذہب کا ہو اس سے مشورہ لے لیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مقدمے میں ایک انگریز وکیل کیا مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آپ نے امورِ نبوت میں اس سے مشورہ لیا۔جنگ احزاب ہوئی تو اس وقت رسول کریم صلی العلیم نے حضرت سلمان فارسی سے مشورہ لیا اور فرمایا کہ تمہارے ملک میں جنگ کے موقعے پر کیا کیا جاتا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں تو خندق کھود لی جاتی ہے۔آپ نے فرمایا یہ بہت اچھی تجویز ہے۔چنانچہ خندق کھودی گئی اور اسی لیے اسے غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے مگر باوجود اس کے ہم نہیں کہہ سکتے کہ سلمان فارسی فنونِ جنگ میں رسول کریم صلی المیہ کم سے زیادہ ماہر تھے۔انہیں فنونِ جنگ میں مہارت کا وہ مقام کہاں حاصل تھا جو محمد صلی املی کام کو حاصل تھا یا محمد صلی علیم نے جو کام کیے وہ کب حضرت سلمان فارسی نے کیے بلکہ خلفاء کے زمانے میں بھی انہیں یعنی حضرت سلمان فارسی کو کسی فوج کا کمانڈر ان چیف نہیں بنایا گیا حالانکہ انہوں نے لمبی عمر پائی تھی۔تو ایک ایکسپرٹ خواہ وہ غیر مذہب کا ہو اس سے بھی مشورہ لیا جا سکتا ہے۔آپؐ پھر اپنا بیان فرماتے ہیں کہ میں بیمار تھا تو انگریز ڈاکٹروں سے بعض مشورے لے لیتا ہوں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خلافت میں بھی میں نے ان سے مشورہ لیا ہے یا ان سے مشورہ لیتا ہوں یا یہ کہ میں انہیں اسی مقام پر سمجھتا ہوں جس مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کو سمجھتا ہوں۔صحابہ سے مشورہ لیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر سے مشورہ