اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 492
تاب بدر جلد 4 492 عقل مند اِس کو سن کر سوائے مسکر ا دینے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔صحابہ کے حالات کے متعلق اسلامی تاریخ میں تین کتابیں بہت مشہور ہیں اور تمام تاریخ جو صحابہ سے متعلق ہے انہی کتابوں میں چکر کھاتی ہے اور وہ کتابیں یہ ہیں کہ تہذیب التہذیب، اصابہ اور اُسد الغابہ۔ان تینوں میں سے ہر ایک میں یہی لکھا ہے کہ سعد باقی صحابہ سے الگ ہو کے شام میں چلے گئے اور وہیں فوت ہوئے اور بعض لغت کی کتابوں نے بھی قتل کے لفظ پر بحث کرتے ہوئے اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بات یہ ہے کہ صحابہ میں سے ساٹھ ، ستر کے نام سعد ہیں۔انہی میں سے ایک سعد بن ابی وقاص بھی ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔حضرت عمرؓ کی طرف سے کمانڈر ان چیف مقرر تھے اور تمام مشوروں میں شامل ہوتے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے حضرت مصلح موعودؓ کے خطبے پہ یہ اعتراض کیا تھا اس نے کمی علم سے سعد کا لفظ سن کر یہ نہ سمجھا کہ یہ سعد اور ہے اور وہ سعد اور ، بلکہ جھٹ میرے خطبے پہ تبصرہ کر دیا۔یہ میں نے سعد بن ابی وقاص کا ذکر نہ کیا تھا جو مہاجر تھے بلکہ میں نے جس کا ذکر کیا وہ انصاری تھے۔ان دو کے علاوہ اور بھی بہت سے سعد ہیں بلکہ ساٹھ ، ستر کے قریب سعد ہیں۔جس سعد کے متعلق میں نے ذکر کیا ان کا نام سعد بن عبادہ تھا۔عرب کے لوگوں میں نام دراصل بہت کم ہوتے تھے اور عام طور پر ایک ایک گاؤں میں ایک نام کے کئی کئی آدمی ہوا کرتے تھے۔جب کسی کا ذکر کرنا ہو تا تو اس کے باپ کے نام سے اس کا ذکر کرتے مثلاً صرف سعد یا سعید نہیں کہتے تھے بلکہ سعد بن عبادہ یا سعد بن ابی وقاص کہتے۔پھر جہاں باپ کے نام سے شناخت نہ ہو سکتی وہاں ان کے مقام کا ذکر کرتے ، جہاں مقام کے ذکر سے بھی شناخت نہ ہو سکتی وہاں اس کے قبیلہ کا ذکر کرتے۔چنانچہ ایک سعد کے متعلق تاریخوں میں بڑی بحث آئی ہے کیونکہ نام ان کا دوسروں سے ملتا جلتا تھا اس لیے مورخین ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مثلاً ہماری مراد اوسی سعد سے ہے یا مثلاً خزر جی سعد سے ہے۔یہ اعتراض کرنے والے صاحب جو ہیں یا تبصرہ کرنے والے ان صاحب نے معلوم ہوتا ہے کہ ناموں کے اختلاف کو نہیں سمجھا اور یو نہی اعتراض کر دیا مگر ایسی باتیں انسانی علم کو بڑھانے والی نہیں ہو تیں بلکہ جہالت کا پردہ فاش کرنے والی ہوتی ہیں۔خلافت ایک ایسی چیز ہے جس سے جدائی کسی عزت کا مستحق انسان کو نہیں بنا سکتی پھر آپ فرماتے ہیں کہ خلافت ایک ایسی چیز ہے جس سے جدائی کسی عزت کا مستحق انسان کو نہیں بنا سکتی۔آپؐ فرماتے ہیں کہ اسی مسجد میں جہاں آپ خطبہ دے رہے تھے غالباً مسجد اقصیٰ ہے کہ میں نے حضرت خلیفہ اول سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ تم کو معلوم ہے کہ پہلے خلیفہ کا دشمن کون تھا ؟ پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ قرآن پڑھو تمہیں معلوم ہو گا کہ اس کا دشمن ابلیس تھا۔یعنی آدم کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا تو اس کا دشمن ابلیس تھا۔اس کے بعد آپ نے فرمایا یعنی حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ میں بھی خلیفہ ہوں اور جو میر ادشمن ہے وہ بھی ابلیس ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیفہ مامور نہیں ہوتا، گو یہ ضروری