اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 477
477 تاب بدر جلد 4 الله صحیح فرمایا مجھے کسی بات کا حکم نہیں دیا گیا۔یہ میری ذاتی رائے ہے جو میں نے تم دونوں کے سامنے رکھی ہے۔ان دونوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان لوگوں نے جاہلیت میں ہم سے ایسی ہی طمع نہیں کی تو آج کیوں کر ؟ جبکہ اللہ ہمیں آپ کے ذریعہ ہدایت دے چکا ہے یعنی کہ یہ جو پہلا اصول ان کے ساتھ چل رہا تھا آج بھی وہی چلے گا۔رسول اللہ صلی اللی کم ان دونوں کے اس جواب سے خوش ہو گئے۔1124 اس کی تفصیل غزوہ خندق کے حالات کے ذکر میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ یہ دن مسلمانوں کے لیے نہایت تکلیف اور پریشانی اور خطرے کے دن تھے اور جوں جوں یہ محاصرہ لمبا ہوتا جاتا تھا مسلمانوں کی طاقت مقابلہ لازماً کمزور ہوتی جاتی تھی اور گو ان کے دل ایمان و اخلاص سے پر تھے مگر جسم مادی قانون اسباب کے ماتحت چلتا ہے تو وہ مضمحل ہو تا چلا جارہا تھا۔یعنی جسم کی ضروریات ہیں، آرام ہے، خوراک ہے، محاصرہ لمبا ہو گیا تو اس کی وجہ سے بے آرامی بھی تھی۔رنگ میں خوراک بھی پوری نہیں ہو رہی تھی اس لیے تھکاوٹ بھی پیدا ہو رہی تھی، کمزوری بھی پیدا ہو رہی تھی، یہ جسم کا قدرتی تقاضا ہے۔تو آنحضرت صلی علی کریم نے ان حالات کو دیکھا تو آپ نے انصار کے رؤساء سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کو بلا کر انہیں حالات بتلائے اور مشورہ مانگا کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کی، غریبوں کی تو یہ حالت ہو رہی ہے اور ساتھ ہی اپنی طرف سے یہ ذکر فرمایا کہ اگر تم لوگ چاہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قبیلہ غطفان کو مدینے کے محاصل میں سے کچھ حصہ دینا کر کے اس جنگ کو ٹال دیا جائے۔سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ نے یک زبان ہو کر یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اگر آپ کو اس بارہ میں کوئی خدائی وحی ہوئی ہے تو سر تسلیم خم ہے۔اس صورت میں آپ بے شک خوشی سے اس تجویز کے مطابق کارروائی فرمائیں۔آپ نے فرمایا نہیں مجھے اس معاملہ میں وحی کوئی نہیں ہوئی۔میں تو صرف آپ لوگوں کی تکلیف کی وجہ سے مشورہ کے طریق پر پوچھ رہا ہوں۔ان دونوں سعد نے جواب دیا کہ پھر ہمارا یہ مشورہ ہے کہ جب ہم نے شرک کی حالت میں کبھی کسی دشمن کو کچھ نہیں دیا تو اب مسلمان ہو کر کیوں دیں۔یعنی جو اُن کے وہاں قانون ہیں اس کے مطابق اب بھی عمل ہو گا۔پھر آگے انہوں نے کہا کہ واللہ ہم انہیں تلوار کی دھار کے سوا کچھ نہیں دیں گے۔چونکہ آنحضرت صلی ا لی ایم کو انصار ہی کی وجہ سے فکر تھی۔دوسرے لوگ بھی وہاں کے رہنے والے ہیں لیکن مدینہ کے انصار کو کوئی اعتراض یا لمبے محاصرے سے انقباض یا بے چینی نہ پید اہو تو انصار کی وجہ یہ فکر تھی جو مدینہ کے اصل باشندے تھے اور غالباً اس مشورہ میں آپ کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ انصار کی ذہنی کیفیت کا پتا لگائیں کہ کیا وہ ان مصائب میں پریشان تو نہیں ہیں اور اگر وہ پریشان ہوں تو ان کی دلجوئی فرمائی جائے۔اس لیے آپ نے پوری خوشی کے ساتھ ان کے اس مشورے کو قبول فرمایا اور پھر جنگ بھی جاری رہی۔5 سے یہ 1125