اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 469
اصحاب بدر جلد 4 469 میں جاکر انہیں روانگی پر تیار کر رہے تھے کہ روانگی سے پہلے انہیں کتے نے کاٹ لیا۔اس لیے وہ غزوہ بدر میں شامل نہ ہو سکے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اگر چہ سعد شریک نہ ہوئے لیکن اس کے آرزومند تھے۔رسول اللہ صلی الل ولم نے حضرت سعد کو غزوہ بدر کے مالِ غنیمت میں سے حصہ عنایت فرمایا تھا۔حضرت سعد بن عبادہ غزوہ احد ، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ شامل ہوئے۔1105 ایک روایت یہ بھی ہے کہ انصار کا جھنڈا غزوہ بدر کے روز حضرت سعد بن عبادہ کے پاس تھا۔یہ المستدرک کی روایت ہے۔1106 جنگ بدر کے موقعہ پر نبی اکرم صلی عوام کی خدمت میں تلوار بطور تحفہ پیش کرنا غزوہ بدر پر روانگی کے وقت حضرت سعد بن عبادہ نے عضب نامی تلوار رسول اللہ صلی کم کی خدمت میں تحفہ پیش کی اور آنحضرت صلی علیم نے غزوہ بدر میں اسی تلوار کے ساتھ شرکت کی تھی۔رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں ایک گدھا بھی حضرت سعد بن عبادہ نے تحفہ پیش کیا تھا۔18 1107 1108 ذَاتُ الْفُضُول: وہ زرہ جو یہودی کے پاس بطور رہن تھی نبی کریم صلی اللی کام کے پاس سات زر ہیں تھیں۔ان میں سے ایک کا نام ذَاتُ الْفُضُول تھا۔یہ نام اسے اس کی لمبائی کی وجہ سے دیا گیا تھا اور یہ زرہ جو تھی حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں تب بھجوائی تھی جب آپ صلی علیہ کم بدر کی طرف روانہ ہو چکے تھے اور یہ زرہ لوہے کی تھی۔یہ وہی زرہ تھی جو آنحضرت صلی کم نے ابو شخص یہودی کے پاس جو کے عوض بطور رہن رکھوائی تھی اور جو کا وزن تیں صاع تھا اور ایک سال کی مدت کے لیے بطور قرض لیا گیا تھا۔1109 جب جنگ زوروں پر ہوتی تو نبی کریم صلی ا یم انصار کے جھنڈے تلے ہوتے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی علیکم کا جھنڈا حضرت علی کے پاس ہو تا اور انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ کے پاس ہوتا اور جب جنگ زوروں پر ہوتی تو نبی کریم صلی علیم انصار کے جھنڈے تلے ہوتے۔تھے۔1110 یعنی دشمنوں کا جو زیادہ تر زور تھا انصار کی طرف ہو تا تھا کیونکہ آنحضرت صلی لی ہم بھی وہیں ہوتے سعد بن عبادہ کی عیادت اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کی بے باکی حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ملی یکم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی کملی ڈالی ہوئی تھی اور آپ نے حضرت اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھا لیا۔حضرت سعد بن عُبادہ کی عیادت کو جارہے تھے کیونکہ حضرت سعد بن عبادہ ان دنوں میں بیمار تھے ، جو بنو حارث بن