اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 436
بدر جلد 4 436 کر حضرت مغیرہ بن شعبہ کے حصہ میں آیا۔یہ وہی شخص نے جس نے بعد میں حضرت عمر پر حملہ کر کے انہیں شہید کیا تھا۔حضرت عمرؓ نے نہاوند کے امیر کو خط لکھا کہ اگر اللہ مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے تو خمس یعنی 5 / 1 بیت المال کے لیے رکھ کر تمام مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کر دو اور اگر یہ لشکر ہلاک ہو جائے تو کوئی بات نہیں کیونکہ زمین کی سطح سے اس کا بطن یعنی قبر بہتر ہے۔حضرت سعد کے متعلق غلط شکایات اور۔۔۔۔۔۔بنا 1027 حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ایک مرتبہ قبیلہ بنو اسد کے لوگوں نے حضرت سعد کی نماز پر اعتراض کیا اور ان کی شکایات حضرت عمرؓ سے کہیں کہ صحیح طرح نماز نہیں پڑھاتے۔حضرت عمرؓ نے حضرت محمد بن مسلمیہ کو تحقیق کے لیے بھیجا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ شکایات غلط تھیں۔تاہم بعض مصلحتوں کی بنا پر حضرت عمر نے حضرت سعد کو مدینے میں بلا لیا۔اس کی تفصیل صحیح بخاری کی روایت میں یوں بیان ہوئی ہے کہ حضرت جابر بن سمرۃا سے مروی ہے۔وہ کہتے تھے کہ کوفہ والوں نے حضرت عمرؓ کے پاس حضرت سعد کی شکایت کی تو انہوں نے ان کو معزول کر دیا اور حضرت عمار کو ان کا عامل یعنی حاکم مقرر کیا۔کوفہ والوں نے حضرت سعد کے متعلق شکایات میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھاتے تو حضرت عمرؓ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا: اے ابو اسحاق ! ( ابو اسحاق حضرت سعد کی کنیت تھی) یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھاتے۔ابو اسحاق نے کہا میں تو بخدا انہیں رسول اللہ صلی علیہم کی نماز پڑھایا کرتا تھا۔اس میں ذرا بھی کم نہیں کر تا تھا۔عشاء کی نماز پڑھاتا تو پہلی دور کعتیں لمبی اور پچھلی دور کعتیں ہلکی پڑھتا تھا۔تب حضرت عمرؓ نے کہا ابو اسحاق آپ کے متعلق یہی خیال تھا۔یعنی مجھے امید تھی کہ اس طرح ہی کرتے ہوں گے۔حضرت سعد کی دعا کا ایک اور شکار پھر حضرت عمرؓ نے ان کے ساتھ ایک آدمی یا چند آدمی کوفہ روانہ کیے تا ان کے بارے میں کوفہ والوں سے پوچھیں۔انہوں نے کوئی مسجد بھی نہیں چھوڑی جہاں حضرت سعد کے متعلق نہ پوچھا گیا ہو۔ہر مسجد میں گئے اور لوگ ان کی (حضرت سعد کی ) اچھی تعریف کرتے تھے۔آخر وہ قبیلہ بنو عبس کی مسجد میں گئے۔ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔اسے اسامہ بن قتادہ کہتے تھے اور ابو سعدہ اس کی کنیت تھی۔اس نے کہا چونکہ تم نے ہمیں قسم دی ہے اس لیے اصل بات یہ ہے کہ سعد فوج کے ساتھ نہیں جایا کرتے تھے اور نہ برابر تقسیم کرتے تھے اور نہ فیصلے میں انصاف کرتے تھے۔یہ الزام انہوں نے حضرت سعد پر لگائے۔حضرت سعد نے جو یہ بات سنی تو اس پر حضرت سعد نے کہا۔دیکھو اللہ کی قسم ! میں تین دعائیں کرتا ہوں کہ اے میرے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور ریا اور شہرت کی غرض سے کھڑ ا ہوا ہے یعنی جو الزام لگانے والا تھا تو اس کی عمر لمبی کر اور اس کی محتاجی کو بڑھا اور اسے مصیبتوں کا تختہ