اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 417

اصحاب بدر جلد 4 417 رسول اللہ صلی علیم نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی مواخات حضرت مصعب بن محمیر کے ساتھ فرمائی جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق آپ صلی علیم نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی مواخات حضرت سعد بن معاذ سے فرمائی۔981 مکہ اور مدینہ میں مواخات مؤاخات میں اس اختلاف کی مولانا غلام باری صاحب سیف نے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ مکہ میں آپ کی مؤاخات حضرت مُصْعَب کے ساتھ تھی اور مدینہ میں حضرت سعد بن معاذ کے ساتھ تھی۔982 قریش کے بہادر شہ سوار حضرت سعد قریش کے بہادر شہ سواروں میں سے تھے۔غزوات میں رسول اللہ صلی ا علم کی حفاظت اور دفاع کی ذمہ داری جن اصحاب کے سپرد ہوتی تھی ان میں سے ایک حضرت سعد بن ابی وقاص بھی 983 ابو اسحاق روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم کے اصحاب میں سے چار اشخاص بہت سخت حملہ آور تھے۔حضرت عمرؓ، حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت سعد 4 ر 984 کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرا پہرہ دے ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو کفار کی طرف سے حملے کا خوف اور پریشانی رہتی تھی جس کی وجہ سے شروع میں مسلمان اکثر راتوں کو جاگا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی علی کی بھی عموماً راتوں کو جاگتے رہتے تھے۔اس بارے میں ایک روایت ملتی ہے حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ مدینہ تشریف آوری کے زمانے میں ایک رات رسول اللہ صلی علیکم سونہ سکے تو آپ نے فرمایا کاش ! میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرا پہرہ دے۔وہ کہتی ہیں ہم اسی حال میں تھے کہ ہم نے اسلحہ کی آواز سنی۔آپ صلی للی کرم نے فرمایا کون ہے ؟ تو باہر سے یہ آواز آئی۔آنے والے نے یہ عرض کیا کہ سعد بن ابی وقاص، کہ میں سعد بن ابی وقاص ہوں۔رسول اللہ صلی علیم نے اسے فرمایا کہ تم یہاں کیسے آئے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے دل میں رسول اللہ صلی علیکم کے بارے میں خوف پیدا ہوا اس لیے میں آپ صلی علی نام کے پہرے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔رسول اللہ صلی الم نے سعد کو دعا دی اور سو گئے۔985 نبی سلام کی دعا کے نتیجہ میں مستجاب الدعوات مشہور یہ بھی ایک حوالہ ہے کہ بخاری اور مسلم دونوں میں اس واقعے کا ذکر تو ہے لیکن اس کے ساتھ دعا کی تفصیل نہیں ہے کہ حضور صلی ا ہم نے کیا دعا دی تھی لیکن حضرت سعد کے مناقب میں جو امام ترمذی نے بیان کیے ہیں ان میں ان کے بیٹے قیس سے روایت ہے کہ میرے والد سعد بیان کرتے ہیں کہ