اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 411

اصحاب بدر جلد 4 411 ہاتھ میں ہے۔وہ بعض قوموں کو بلند کرتا ہے اور بعض کو زوال دیتا ہے ( یعنی ان کے اپنے عملوں کی وجہ سے) حضرت سبرہ بن فاتک کا گزر حضرت ابو درداء کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا سبرہ کے ساتھ محمد صلی للہ روم کا نور ہے۔عبد الرحمن بن عائذ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے حضرت سبرہ کو برا بھلا کہا تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے بچنے کے لئے غصہ پی لیا۔جواب نہیں دیا، غصہ کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا، خاموش رہے اور غصہ کو دبانے کی وجہ سے آبدیدہ ہو گئے۔اتنا شدت سے ان کو غصہ تھا، اتنابر ابھلا کہا گیا ان کو کہ غصہ دبایا جس کی وجہ سے آنکھوں سے پانی آگیا۔نبی کریم صلی یم نے فرمایا کیا ہی اچھا آدمی ہے سمرہ اگر وہ اپنے لمبے بال کچھ چھوٹے کر والے (ان کے لمبے بال تھے ) اور اپنی تہ بند کو تھوڑا اوپر اٹھا لے۔جب آپ تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے فوری طور پر ایسا ہی کیا۔آپ بیان کرتے تھے کہ مجھے اس بات کی خواہش ہے کہ ہر دن کسی مشرک سے میر اسامنا ہو جس نے زرہ پہن رکھی ہو۔اگر وہ مجھے شہید کر دے تو ٹھیک اور اگر میں اسے قتل کر دوں تو اس جیسا اور میرے مقابل پر آجائے۔بعض کے نزدیک یہ بدر میں شامل نہیں تھے لیکن امام بخاری وغیرہ نے آپ کو اور آپ کے بھائی کو بدری اصحاب میں شامل کیا ہے۔958 128 حضرت سُبيع بن قيش سبيع بن قیس بن عَيْشَہ۔بعض نے آپ کے دادا کا نام عبسہ اور بعض نے عائشہ بھی لکھا ہے۔بہر حال آپ انصاری اور خزرجی تھے۔غزوہ بدر واحد میں شامل ہوئے۔آپ کی والدہ کا نام خدیجہ بنت عمر و بن زید ہے۔آپ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام عبد اللہ تھا اور اس کی ماں قبیلہ بنو جَدَارہ سے تھی۔وہ بچپن میں فوت ہو گیا۔اس کے علاوہ آپ کا کوئی بچہ نہ تھا۔حضرت عبادہ بن قیس آپ کے بھائی تھے۔حضرت سُبیع کے ایک حقیقی بھائی زید بن قیس بھی تھے۔959 حضرت شبیع بن قیس اور حضرت عبادہ بن قیس حضرت ابو درداء کے چچا تھے۔960