اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 410

ب بدر جلد 4 410 ابی داؤد کی روایت ہے کہ حضرت سائب بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ نے آپ کے سامنے میر اذکر اور تعریف کرنی شروع کر دی۔اس پر آپ نے فرمایا۔میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں۔میں نے عرض کیا۔صَدَقْتَ بِأَبِي أَنْتَ وَ أَمِّي كُنتَ شَرِيكَي فَنِعْمَ الشَرِيكَ۔كُنْتَ لَا تُدَارِى وَ لا تماری کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! آپ نے سچ فرمایا۔آپ تجارت میں میرے شریک تھے اور کیا ہی بہترین شراکت دار تھے۔آپ نہ ہی مخالفت کرتے اور نہ ہی جھگڑا کرتے تھے۔956 سیرت خاتم النبیین میں اس واقعہ کو اس طرح درج کیا گیا ہے کہ مکہ سے تجارت کے قافلے مختلف علاقوں کی طرف جاتے تھے۔جنوب میں یمن کی طرف اور شمال میں شام کی طرف تو با قاعدہ تجارت کا سلسلہ جاری تھا۔اس کے علاوہ بحرین وغیرہ کے ساتھ بھی تجارت تھی۔آنحضرت صلی اللہ نظم عموماً ان سب ملکوں میں تجارت کی غرض سے گئے اور ہر دفعہ نہایت دیانت و امانت اور خوش اسلوبی اور ہنر مندی کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کیا۔مکہ میں بھی جن لوگوں کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑا وہ سب آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے؛ چنانچہ سائب ایک صحابی تھے۔" (جن کا ذکر ہو رہا ہے) "وہ جب اسلام لائے تو بعض لوگوں نے آنحضرت صلی علیکم کے سامنے ان کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا میں ان کو تم سے زیادہ جانتا تہوں۔" سائب نے عرض کی۔"ہاں یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔آپ ایک دفعہ تجارت میں میرے شریک تھے اور آپ نے ہمیشہ نہایت صاف معاملہ رکھا۔"957 127 نام و نسب حضرت سبرہ بن فاتک حضرت سہرہ بن فاتک۔یہ خریم بن فاتک کے بھائی تھے اور خاندان بنو اسد سے تھے۔ان کے والد کا نام فاتک بن الاخرم تھا۔حضرت سبرۃ کا نام سمرہ بن فاتتک بھی ملتا ہے۔ایمن بن خریم بیان کرتے ہیں کہ میرے والد اور چا دونوں غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور انہوں نے مجھ سے پختہ عہد لیا تھا کہ میں کسی مسلمان سے قتال نہیں کروں گا، جنگ نہیں کروں گا۔عبد اللہ بن یوسف نے کہا ہے کہ سبرۃ بن فاتک وہی ہیں جنہوں نے دمشق کو مسلمانوں میں تقسیم کیا تھا۔ان کا شمار شامیوں میں ہوتا ہے۔یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی علیکم نے فرمایا کہ میزان خدائے رحمن کے الله