اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 25
ب بدر جلد 4 25 اللہ صلی علی نے اپنا سر کس طرح دھوتے تھے جبکہ آپ احرام کی حالت میں ہوتے تھے کیونکہ کہتے ہیں کہ احرام باندھا ہو تو سر نہیں دھونا چاہیے۔تو حضرت ابوایوب نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا، اسے نیچے جھکایا یہاں تک کہ ان کا سر مجھے نظر آیا یعنی وہ سکرین جو بنائی ہوئی تھی جس کے آپ پیچھے تھے اس کو نیچے کر کے آپ نے مجھے اپناسر دکھایا۔پھر انہوں نے ایک آدمی سے کہا جو اُن پر پانی ڈال رہا تھا کہ پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا۔پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو ملا، ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور کہا کہ اس طرح میں نے آنحضرت صلی علیکم کو کرتے دیکھا ہے۔68 ایک دفعہ آگے پھر پیچھے لے گئے سر دھوتے ہوئے۔اے ابو ایوب تمہیں تکلیف نہ پہنچے حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت ابوایوب نے رسول کریم صلی ایم کی ریش مبارک میں کوئی چیز تنکا وغیرہ دیکھا تو انہوں نے اسے الگ کر دیا اور آپ صلی علیکم کو دکھایا۔اس پر نبی کریم صلی نیلم نے فرمایا کہ ابو ایوب سے اللہ وہ چیز دور کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے ابو ایوب تمہیں تکلیف نہ پہنچے۔حضرت علی ملکا اعتماد اور مدینہ کی گورنری 69 حضرت ابوایوب انصاری جنگ جمل اور جنگ صفین اور جنگ نہروان میں حضرت علی کے لشکر کے آگے والے حصہ میں شامل تھے۔70 حضرت علی کو حضرت ابو ایوب انصاری کی ذات پر جو اعتماد تھا وہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت علیؓ نے کوفہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا اور وہاں منتقل ہو گئے تو حضرت ابوایوب انصاری کو مدینہ کا گورنر بنا دیا اور وہ چالیس ہجری تک مدینہ کے گورنر رہے یہاں تک کہ بشر بن ابو ارطاۃ کی قیادت میں امیر معاویہ کی شامی فوج نے مدینہ پر حملہ کیا تو اس وقت حضرت ابوایوب انصاری مدینہ چھوڑ کر حضرت علی کے پاس کو فہ چلے گئے۔آنحضرت صلی الیکم کے بعد صحابہ کرام کو دربارِ خلافت سے ماہانہ وظائف ملتے تھے۔حضرت ابوایوب کا وظیفہ پہلے چار ہزار تھا۔حضرت علی نے اپنے زمانہ خلافت میں نہیں ہزار کر دیا۔پہلے آٹھ غلام ان کی زمین کی کاشت کے لیے مقرر تھے حضرت علی نے چالیس غلام کر دیے۔71 حضرت ابن عباس کی عالی شان میزبانی حضرت حبیب بن ابو ثابت سے روایت ہے کہ حضرت ابوایوب امیر معاویہ کے پاس آئے اور ان سے اپنے اوپر قرض کی شکایت کی تو انہوں نے وہ نہ دیکھا جو وہ پسند کرتے تھے اور انہوں نے وہ دیکھا جسے وہ ناپسند کرتے تھے۔یعنی حضرت ابوایوب کی بات کو نہیں دیکھا بلکہ ان کی ناپسندیدگی والی بات کو