اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 381
ب بدر جلد 4 381 اغراض کے ماتحت کی تھیں۔ایک بُرا آدمی دوسرے کے افعال میں بری نیت تلاش کرتا ہے اور اپنی گندی حالت کی وجہ سے بسا اوقات دوسرے کی نیک نیت کو سمجھ بھی نہیں سکتا مگر ایک شریف انسان اس بات کو جانتا اور سمجھتا ہے کہ بسا اوقات ایک ہی فعل ہو تا ہے جسے ایک گندہ آدمی بری نیت سے کرتا ہے مگر اسی کو ایک نیک آدمی نیک اور پاک نیت سے کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اسلام میں شادی کی غرض یہ نہیں ہے کہ مرد اور عورت اپنی نفسانی خواہشات کے پورا کرنے کے لیے اکٹھے ہو سکیں بلکہ گو نسل انسانی کے بقا کے لیے مردو عورت کا اکٹھا ہونا نکاح کی ایک جائز غرض ہے مگر اس میں بہت سی اور پاکیزہ اغراض بھی مد نظر ہیں۔پس ایک انسان کی شادیوں کی وجہ تلاش کرتے ہوئے، جس کی زندگی کا ہر حرکت اور سکون اس کی بے نفسی اور پاکیزگی پر ایک دلیل ہے ، گندے آدمیوں کی طرح گندے خیالات کی طرف مائل ہونے لگنا اس شخص کو تو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا جس کے متعلق یہ رائے لگائی جاتی ہے مگر رائے لگانے والے، دینے والے کے اپنے اندرونے کا آئینہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے۔مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ پس اس سے زیادہ اس اعتراض کے جواب میں، میں کچھ نہیں کہتا کہ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ کہ اللہ ہی ہے جس سے اس بات پر مددمانگی جاسکتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔660 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بھی اس شادی اور نکاح کے حوالے سے ایک نکتہ اپنے ایک نکاح کے خطبہ میں بیان فرمایا تھا وہ بھی میں پڑھ دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیم نے اپنی پھوپھی کی لڑکی کا نکاح زید سے کرایا۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول کریم صلی الیم نے استخارہ نہیں کیا ہو گا۔دعائیں نہیں کی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ پر اتکال نہ کیا ہو گا تو گل نہیں کیا ہو گا۔یہ سب باتیں رسول کریم ملی ایم نے کی ہوں گی۔آپ نے استخارہ بھی کیا ہو گا۔دعائیں بھی کی ہوں گی مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے آپ کی کوشش کو بار آور نہیں کیا۔880 آپ لکھتے ہیں یہ نکتہ بیان فرما رہے ہیں کہ اصل وجہ اس بات کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ یہ بات لوگوں پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ رسول کریم صلی علیکم کی نرینہ اولاد نہیں ہے خواہ قانونِ قدرت والی اولاد ہو یا قانون ملکی والی، ( جو بچے adopt کر لیتے ہیں وہ ملکی قانون کے تحت اولاد تصور ہوتی ہے ) قانونِ قدرت کے مطابق تو آپ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی مگر ملکی دستور اور اس وقت کے قانونِ شریعت کے مطابق آپ کی اولاد موجود تھی جیسا کہ زید تھے۔لوگ انہیں ابنِ محمد کہا کرتے تھے۔حضرت زینب کے نکاح کے واقعہ سے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اولا دو ہی ہوتی ہے جو قانونِ قدرت کے مطابق ہو یعنی جسمانی اولاد ہو۔قانون ملکی والی اولا د حقیقی اولاد نہیں ہوتی۔(جو adopt کیے ہوئے بچے ہوتے ہیں وہ بھی حقیقی اولاد نہیں ہوتی اور نہ شریعت نے حقیقی اولاد کے لیے جو قوانین رکھے ہیں وہ دوسروں پر عائد ہوتے ہیں۔اس بات کو قائم کرنے کے لیے واحد طریق یہی تھا کہ حضرت زید کی مطلقہ کے ساتھ رسول کریم ملی ایم نکاح فرماتے۔اللہ تعالیٰ نے زید اور اس کی بیوی کے تفرقہ کو دور نہ ہونے دیا۔اللہ تعالیٰ چاہتا تو