اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 380
اصحاب بدر جلد 4 380 میور صاحب اس تاریخی واقعہ سے بھی ہر گز نا واقف نہیں تھے کہ جب مکہ والوں نے آپ کی تبلیغی مساعی سے تنگ آکر اور ان کو اپنے قومی دین کا مخرب ( خراب کرنے والا ) خیال کر کے آپ کے پاس عقبہ بن ربیعہ کو بطور ایک وفد کے بھیجا تھا اور آپ سے بڑی پر زور استدعا کی درخواست کی تھی کہ آپ اپنی ان کوششوں سے رُک جائیں اور دولت اور ریاست کی طمع دینے کے علاوہ ایک یہ درخواست بھی پیش کی کہ اگر آپ کسی اچھی لڑکی کے ساتھ شادی کر کے ہم سے خوش ہو سکتے ہیں اور ہمارے دین کو برابھلا کہنے اور اس نئے دین کی تبلیغ سے باز رہ سکتے ہیں تو آپ جس لڑکی کو پسند کریں ہم آپ کے ساتھ اس کی شادی الله کیے دیتے ہیں۔اس وقت آپ کی عمر بھی کوئی ایسی زیادہ نہیں تھی پھر جسمانی طاقت بھی بعد کے زمانہ کی نسبت یقیناً بہتر حالت میں تھی مگر جو جواب آپ صلی علی کرم نے رؤسائے مکہ کے اس نمائندہ کو دیا وہ بھی تاریخ کا ایک کھلا ہو اور ق ہے جس کے دوہرانے کی، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ضرورت نہیں ہے اور یہ تاریخی واقعہ بھی میور صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں تھا کہ مکہ کے لوگ آپ کو آپ کی بعثت سے قبل یعنی چالیس سال کی عمر تک ایک بہترین اخلاق والا انسان سمجھتے تھے مگر باوجو دان سب شہادتوں کے میور صاحب کا یہ لکھنا کہ پچپن سال کی عمر کے بعد جب ایک طرف آپ کی جسمانی طاقتوں میں طبعاً انحطاط رو نما ہونے لگا تھا اور دوسری طرف آپ کے مشاغل اور ذمہ داریاں اس قدر بڑھ گئیں جو ایک مصروف سے مصروف انسان کے مشاغل کو بھی شرماتی ہیں تو آپ عیش و عشرت میں مبتلا ہو گئے۔یہ یقیناً ہر گز کوئی غیر متعصبانہ ریمارک نہیں سمجھا جا سکتا۔یقیناً یہ تعصب سے بھر اہوار یمارک ہے۔کہنے کو تو کوئی شخص جو کچھ بھی کہنا چاہے کہہ سکتا ہے اور اس کی زبان اور قلم کو روکنے کی دوسروں میں طاقت نہیں ہوتی مگر عقل مند آدمی کو چاہیے کہ کم از کم ایسی بات نہ کہے جسے دوسروں کی جو عقل سلیم ہے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔میور صاحب اور ان کے ہم خیال لوگ اگر اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتار کر دیکھتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ محض یہ بات ہی کہ آنحضرت صلم کی یہ شادیاں آپ کے بڑھاپے کی عمر کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جسمانی اغراض کے ماتحت نہیں تھیں بلکہ ان کی تہ میں کوئی دوسری اغراض بھی مخفی تھیں خصوصاً جبکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آپ نے اپنی جوانی کے ایام ایک ایسی حالت میں گزارے جس کی وجہ سے آپ نے اپنوں اور بیگانوں سے امین کا خطاب پایا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں اور ہر پڑھنے والے کے، تاریخ جاننے والے کے یقیناً یہی جذبات ہوتے ہیں کہ اس بات کے مطالعہ سے مجھے ایک روحانی سرور حاصل ہوتا ہے کہ آپ کی عمر کے جس زمانہ میں آپ کی یہ شادیاں ہوئیں وہ وہ زمانہ ہے جب کہ آپ پر آپ کے فرائض نبوت کا سب سے زیادہ بار تھا اور اپنی ان لاتعداد اور بھاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں آپ بالکل محو ہو رہے تھے اور ہر انصاف پسند ، شریف انسان کے نزدیک محض یہ منظر ہی اس بات کی ایک دلیل ہے کہ آپ کی یہ شادیاں آپ کے فرائض نبوت کا حصہ تھیں جو آپ نے اپنی خانگی خوشی کو برباد کرتے ہوئے تبلیغ و تربیت کی