اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 379

اصحاب بدر جلد 4 379 ہوشیاری کے ساتھ پھیلائی جاتی تھیں کہ بعض اوقات آنحضرت صلی علیم اور آپ کے اکابر صحابہ کو تفصیلی علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تردید کا موقع بھی نہیں ملتا تھا اور اندر ہی اندر ان کاز ہر پھیلتا جاتا تھا۔ایسی صورتوں میں بعض بعد میں آنے والے مسلمان جو زیادہ تحقیق اور تدقیق کے عادی نہیں تھے انہیں سچا سمجھ کر ان کی روایت شروع کر دیتے تھے اور اس طرح یہ روایتیں واقدی وغیرہ کی قسم کے مسلمانوں کے جو مجموعے تھے ان میں راہ پا گئیں مگر جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے صحیح احادیث میں ان کا نام و نشان تک نہیں پایا جاتا اور نہ محققین نے انہیں قبول کیا ہے۔حضرت زینب بنت جحش کے قصہ میں سرولیم میور نے جن سے یقینا ایک بہتر ذہنیت کی امید کی جاتی تھی واقدی کی غلط اور بناوٹی روایت کو قبول کرنے کے علاوہ اس موقع پر یہ دل آزار طعن بھی کیا ہے۔وہ معترض تھا۔ان سے تو یہی امید ہونی چاہیے تھی اور پھر جب حوالہ مسلمانوں کا مل جائے تو پھر ان کو مزید طعن کرنے کا بھی موقع مل جاتا ہے کہ گویا بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی للی نیم کی نفسانی خواہشات بھی ترقی کرتی جاتی تھیں (نعوذ باللہ ) اور میور صاحب آپ کے حرم کی جو توسیع تھی، شادیوں میں اضافہ تھا اس کو میور صاحب اسی جذبے پر مبنی قرار دیتے ہیں۔یہی کہتے ہیں کہ یہ نفسانی خواہشات تھیں، نعوذ باللہ۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ میں بھی ایک مؤرخ کی حیثیت سے اس بات کو بغیر کسی مذہبی بحث میں پڑنے کے بیان کرتا ہوں مگر تاریخی واقعات کو ایک غلط راستے پر جب ڈالا جاتا ہے تو اسے دیکھ کر اس ناگوار اور غیر منصفانہ طریق کے خلاف آواز بلند کرنے سے باز نہیں ہ سکتا۔پس علاوہ مذہبی جذبات کے اور پھر آنحضرت صلی اہل علم کے تقدس کے سوال کے ، جس پر ایک حقیقی مسلمان اور ایک مومن تو اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہے ، عقلی اور تاریخی حقائق جو ہیں وہ بھی اس بیہودہ بات کی نفی کرتے ہیں۔ره آنحضرت صلی السلام کی تعدد ازواج میں حکمت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ بے شک یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی الی یکم نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اور یہ بات بھی مسلمہ تاریخ کا حصہ ہے کہ علاوہ حضرت خدیجہ کے آپ کی ساری شادیاں اس زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جسے بڑھاپے کا زمانہ کہا جاسکتا ہے مگر بغیر کسی تاریخی شہادت کے بلکہ واضح اور صریح تاریخی شہادت کے خلاف یہ خیال کرنا کہ آپ کی یہ شادیاں نعوذ باللہ جسمانی خواہشات کے جذبہ کے ماتحت تھیں ایک مؤرخ کی شان سے بہت بعید ہے اور ایک شریف انسان کی شان سے بھی بعید تر ہے۔میور صاحب اس حقیقت سے بے خبر نہیں تھے کہ آنحضرت صلی الی ایم نے پچیس سال کی عمر میں ایک چالیس سالہ ادھیڑ عمر کی بیوہ عورت سے شادی کی اور پھر پچاس سال کی عمر تک اس رشتہ کو اس خوبی اور وفاداری کے ساتھ نباہا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی اور اس کے بعد بھی آپ نے پچپن سال کی عمر تک عملاً صرف ایک بیوی رکھی اور یہ بیوی حضرت سودہ بھی حسن اتفاق سے ایک بیوہ اور ادھیڑ عمر کی خاتون تھیں اور اس تمام عرصہ میں جو جذبات نفسانی کے بہیجان کا مخصوص زمانہ ہے آپ کو کبھی دوسری شادی کا خیال نہیں آیا۔