اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 344

تاب بدر جلد 4 344 صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوتی تھی وہ اس وقت لکھوا دی جاتی تھی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کاتبوں کو قرآن کریم لکھواتے تھے ان میں سے مندرجہ ذیل پندرہ نام تاریخ سے ثابت ہیں۔زید بن ثابت، ابی بن کعب، عبد الله بن سعد بن ابی سرح، زبیر بن العوام ، خالد بن سعید بن العاص، آبان بن سعيد العاص، حنظله بن الربيع الاسدی، معیقیب بن ابی فاطمہ ، عبد اللہ بن ارقم الزهری ، شرحبیل بن حسنہ، عبد اللہ بن رواحہ ، حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف نازل ہو تا تو آپ ان لوگوں میں سے کسی کو بلا کر وحی لکھوا دیتے تھے۔“ 818 حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام کو ایک غزوے کے موقعے پر خارش کی وجہ سے ریشم کی قمیض پہنے کی اجازت دی تھی۔19 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینے میں مکانوں کی حد بندی کی تو حضرت زبیر کے لیے زمین کا بڑا ٹکڑا مقرر کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر سو کھجور کا ایک باغ بھی دیا۔رسول اکرم صلی ا ولم کا حضرت زبیر کو زمین ہبہ کرنا 820 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت زبیر بن عوام کو زمین ہبہ کرنے کے متعلق بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو سرکاری زمینوں میں سے ایک اتنا بڑا ٹکڑ اعطا فرمایا جس میں کہ حضرت زبیر کا گھوڑا آخری سانس تک دوڑ سکے یعنی جس حد تک وہ دوڑ سکتا تھا دوڑ جائے۔حضرت زبیر کا گھوڑا جس جگہ پر جا کر کھڑا ہو ا وہاں سے انہوں نے اپنا کوڑا بڑے زور سے اوپر پھینکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ نہ صرف اس حد تک زمین ان کو دی جائے جہاں ان کا گھوڑا جا کر کھڑ ا ہو گیا تھا بلکہ جہاں ان کا کوڑا گر ا تھا اس حد تک ان کو زمین دی جائے۔آپ لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک کا گھوڑا بھی میلوں دوڑ سکتا ہے اور عرب کا گھوڑا تو بہت زیادہ تیز ہو تا ہے۔اگر چار پانچ میل بھی گھوڑے کی دوڑ رکھی جائے تو ہیں ہزار ایکڑ کے قریب زمین بنتی ہے جو ان کو دی گئی تھی۔امام ابو یوسف کتاب الخرائج میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو ایک زمین کا ٹکڑا بخشا جس میں کھجور کے درخت بھی لگے ہوئے تھے اور یہ حضرت خلیفہ ثانی نے بھی امام ابویوسف کے بیان کا حوالہ دیا۔کہتے ہیں کہ جو زمین کا ٹکڑا بخشا تھا اس میں کھجور کے درخت بھی لگے ہوئے تھے اور وہ کسی وقت یہودی قبیلہ بنو نضیر کی ملکیت میں سے تھا اور ان کو مجرف کہتے تھے ، یہ حرف جو ہے یہ مدینے سے شام کی طرف تین میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے۔یعنی وہ مجرف ایک مستقل گاؤں تھا۔جب ہم پہلی حدیثوں سے اس حدیث کو ملائیں یعنی جہاں گھوڑے کے دوڑنے کا ذکر ہے اور تقریباً پندرہ