اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 342

اصحاب بدر جلد 4 342 لیے پورا کیا جائے اور ان کی حفاظت کے لیے ان سے مدافعت کی جائے اور ان سے بھی اتنا ہی لیا جاۓ جتنا ان کی طاقت ہو۔انتخاب خلافت کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر فوت ہو گئے اور ان کی تدفین سے فراغت ہوئی تو وہ چھ آدمی جمع ہوئے جن کا نام حضرت عمرؓ نے لیا تھا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ اپنا معاملہ اپنے میں سے تین آدمیوں کے سپر د کر دو۔حضرت زبیر نے کہا میں نے اپنا اختیار حضرت علی کو دیا۔حضرت طلحہ نے کہا میں نے اپنا اختیار حضرت عثمان کو دیا۔حضرت سعد نے کہا میں نے اپنا اختیار حضرت عبد الرحمن بن عوف کو دیا۔حضرت عبد الرحمن نے حضرت علی اور حضرت عثمان سے کہا کہ آپ دونوں میں سے جو بھی اس امر سے دستبردار ہو گا ہم اسی کے حوالے اس معاملے کو کر دیں گے اور اللہ اور اسلام اس کا نگران ہو گا۔وہ آپ میں سے اسی کو تجویز کرے گا جو اس کے نزدیک افضل ہے۔یہ سن کر دونوں بزرگ خاموش رہے۔حضرت عبد الرحمن نے کہا: کیا آپ اس معاملے کو میرے سپرد کرتے ہیں؟ اور اللہ میر ا نگران ہے جو آپ میں سے افضل ہے اس کو تجویز کرنے کے متعلق کوئی بھی کمی نہیں کروں گا۔ان دونوں نے کہا اچھا۔پھر عبد الرحمن ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ کر الگ ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا آنحضرت علی الم سے رشتے کا تعلق ہے اور اسلام میں بھی وہ مقام ہے جو آپ جانتے ہی ہیں۔اللہ آپ کا نگر ان ہے۔بتائیں اگر میں آپ کو امیر بناؤں تو کیا آپ ضرور انصاف کریں گے ؟ اگر میں عثمان کو امیر بناؤں تو آپ ان کی بات سنیں گے اور ان کا حکم مانیں گے ؟ پھر حضرت عبد الرحمن دوسرے کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی ویسے ہی کہا۔جب انہوں نے پختہ عہد لے لیا تو پھر عبد الرحمن نے حضرت عثمان کو کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھائیں اور ان کی بیعت کی اور حضرت علیؓ نے بھی ان کی بیعت کی اور گھر والے اندر آ گئے اور انہوں نے بھی حضرت عثمان کی بیعت کی۔812 تمہارے آباء زبیر اور ابو بکر اسی آیت میں مذکور صحابہ میں سے تھے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُم الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمُ (آل عمران:173) کہ جن لوگوں نے اللہ اور رسول کا حکم اپنے زخمی ہونے کے بعد بھی قبول کیا ان میں سے ان کے لیے جنہوں نے اچھی طرح اپنا فرض ادا کیا ہے اور تقویٰ اختیار کیا ہے بڑا اجر ہے۔اس آیت کے بارے میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے بیان فرماتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے بھانجے عروہ سے کہا کہ اے میرے بھانجے ! تمہارے آباء زبیر اور ابو بکر اسی آیت میں مذکور صحابہ میں سے تھے۔جب جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے اور مشرکین پلٹ