اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 305
305 ناب بدر جلد 4 کی طرف نکلا یہاں تک کہ ہم بریں مقام پر پہنچے جو روحاء کے مقام سے پیچھے ہے تو ہمارا اونٹ بیٹھ گیا۔تو میں نے دعا کی کہ اے اللہ ہم تجھ سے نذر مانگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس پر مدینہ لوٹا دے تو ہم اس کو قربان کر دیں گے۔پس ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی علی یکم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا۔آپ صلی یا ہم نے ہم سے پوچھا کہ تم دونوں کو کیا ہوا ہے۔ہم نے آپ کو ساری بات بتائی۔پھر رسول اللہ صلی نمی کم ہمارے پاس رکے اور آپ نے وضو فرمایا۔پھر جو بچا ہوا پانی تھا اس میں لعاب دہن ڈالا۔726 پھر آپ کے حکم سے ہم نے اونٹ کا منہ کھول دیا۔آپ نے اونٹ کے منہ میں کچھ پانی ڈالا۔پھر کچھ اس کے سر پر، اس کی گردن پر ، اس کے شانے پر، اس کی کوہان پر، اس کی پیٹھ پر اور اس کی دم پر ( پانی ڈالا)۔پھر آپ صلی علیہم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! رافع اور خلاد کو اس پر سوار کر کے لے جا۔کہتے ہیں پھر رسول اللہ صلی میریم تشریف لے گئے۔ہم بھی چلنے کے لئے کھڑے ہوئے اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللی کم کو منصف مقام کے شروع میں پالیا اور ہمارا اونٹ قافلے میں سب سے آگے تھا۔رسول اللہ صلی علیم نے جب ہمیں دیکھا تو مسکر ا دیئے۔آپ صلی علی یم کی دعا سے اس کی وہ کمزوری بالکل دور ہو گئی تھی۔کہتے ہیں ہم چلتے رہے یہاں تک کہ بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔بدر سے واپسی پر جب ہم مصلى مقام پر پہنچے تو وہ اونٹ پھر بیٹھ گیا۔پھر میرے بھائی نے اس کو ذبح کر دیا اور اس کا گوشت تقسیم کیا اور ہم نے اس کو صدقہ کر دیا۔724 ایک نذر مانی تھی کہ جب وہ کام آجائے تو اس کے بعد ہم ذبح کر دیں گے۔اس کے مطابق انہوں نے اس پر عمل کیا۔725 یہ انصاری تھے۔حضرت خلاد بن رافع کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو خزرج کی شاخ عجلان سے تھا۔ان کی والدہ کا نام ام مالک بنت ابی بن مالک تھا۔حضرت غلاڈ کے بیٹے کا نام بیچی تھا جو ام رافع بنت عثمان بن خلدہ کے بطن سے تھے۔یہی لکھا ہے کہ ان کے تمام بچے شروع میں ہی وفات پاگئے تھے۔727 جیسا کہ نماز پڑھنے کے بارے میں ایک روایت بیان ہو چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین دفعہ ایک شخص کو فرمایا کہ دوبارہ پڑھو۔صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی۔پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو اور اسی طرح اس کو دوبارہ لوٹا دیا۔پھر اس کو لوٹایا اور یہی کہا کہ واپس جاؤ اور نماز پڑھو جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔پھر اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لیے آپ مجھے سکھائیں۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو۔پھر قرآن میں سے جو