اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 290

تاب بدر جلد 4 290 بال بچوں کی حفاظت کرے اور میں اس کے مال و اسباب کی مدینہ میں حفاظت کروں گا۔جب میں نے اپنا نام عبد الرحمن لکھا تو امیہ نے کہا کہ میں عبد الرحمن کو نہیں جانتا۔تم مجھے اپناوہ نام لکھو جو جاہلیت میں تھا۔اس پر میں نے اپنا نام عبد عمر و لکھا۔جب وہ بدر کی جنگ میں تھا تو میں ایک پہاڑی کی طرف نکل گیا جب کہ لوگ سورہے تھے تاکہ میں اس کی حفاظت کروں یعنی حفاظت کی نیت سے ادھر گئے کہ دشمن کہیں ادھر سے حملہ نہ کرے تو بلال نے اس وقت امیہ کو وہاں کہیں دیکھ لیا۔چنانچہ وہ گئے اور انصار کی ایک مجلس میں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ اُمیہ بن خلف ہے۔اگر بچ نکلا تو میری خیر نہیں ہے۔اس پر بلال کے ساتھ کچھ لوگ ہمارے تعاقب میں نکلے۔میں ڈرا کہ وہ ہمیں پالیں گے۔وہاں اس وقت تک لگتا ہے حضرت عبد الرحمن کی اور امیہ کی بات ہو گئی تھی تو بہر حال کہتے ہیں مجھے شک ہوا میں نے انہیں کہا کہ میں تمہیں قیدی بناتا ہوں۔اس لیے میں نے امیہ کے بیٹے کو ، دونوں کو پکڑ تو لیا لیکن جب یہ مسلمان حملہ آور حضرت بلال کے ساتھ آئے تو کہتے ہیں میں نے امیہ کے بیٹے کو اس کی خاطر پیچھے چھوڑ دیا، وہاں رکھ دیا تا کہ وہ حملہ آور اس کے ساتھ نبرد آزمار ہیں۔اس سے ہی لڑائی کرتے رہیں۔اس کی لڑائی میں مشغول ہو جائیں اس کے ساتھ اور ہم آگے نکل جائیں۔چنانچہ انہوں نے اسے مار ڈالا۔امیہ کے بیٹے کو ان لوگوں نے مار ڈالا۔پھر یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمارا پیچھا کیا اور میر امیہ داؤ کار گر نہ ہونے دیا کہ میں امیہ کو بچالوں۔امیہ چونکہ بھاری بھر کم آدمی تھا اس لیے جلدی اِدھر اُدھر نہ ہو سکا آخر جب انہوں نے ہمیں پالیا تو میں نے امیہ سے کہا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا۔میں نے اپنے آپ کو اس پر ڈال دیا کہ اسے بچاؤں تو انہوں نے میرے نیچے سے اس کے بدن میں تلواریں گھو نہیں یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔ان میں سے ایک نے اپنی تلوار سے میرے پاؤں پر بھی زخم کر دیا۔راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ہمیں اپنے پاؤں کی پشت پر وہ نشان دکھایا کرتے تھے جو اس وجہ سے ہو اتھا۔1906 امیہ اور اس کے بیٹے کو کس نے قتل کیا؟ اس بارے میں مشہور ہے کہ امیہ کو انصار کے قبیلہ کے خوش اسے قتل 686 بنو مازن کے ایک شخص نے عمل کیا تھا جبکہ ابن ہشام کہتے ہیں کہ امیہ کو حضرت معاذ بن عفراء، خَارِجہ بن زید اور حبیب بن اساف نے مل کر قتل کیا تھا۔جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے یہ بھی ان میں شامل تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال نے اسے قتل کیا تھا تا ہم اصل حقیقت یہ ہے کہ سب صحابہ امیہ کے قتل میں شریک تھے اور امیہ کے بیٹے علی کو حضرت بلال نے حملہ کر کے نیچے گرا دیا تھا۔بعد میں اسے حضرت عمار بن یاسر نے قتل کیا تھا۔687 بعض واقعات کی جو تفصیل ہے ان کا براہ راست اس صحابی سے تعلق نہیں ہو تا لیکن اس میں تو ذکر ہے بھی لیکن میں اس لیے ذکر کر دیتا ہوں تاکہ ہمیں تاریخ کا بھی کچھ علم ہو جائے۔نبی اکرم صلی السلام کی دعا اور لعاب مبارک کی برکت۔حبیب بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میرے دادا حضرت حبیب کو غزوہ بدر کے روز ایک زخم پہنچا