اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 268

صحاب بدر جلد 4 268 کے نثار۔اے اللہ کے رسول ! تجھ پر لاکھوں درود اور کروڑوں سلام۔اے وہ کہ جس کے حسن و احسان کا سمندر بے کنارہ تھا اور لافانی تھا۔اے اللہ کے رسول ! تجھ پر لاکھوں درود اور کروڑوں سلام۔زمین و آسمان کے واحد اور یگانہ خدا کی قسم از مین و آسمان میں اس کی تمام مخلوق میں تُو واحد و یگانہ ہے۔تجھ سا کوئی تھانہ ہے نہ ہو گا۔30 حضرت حمزہ کے ذکر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ کا بھی ذکر ہو گیا۔631 83 یہ بدری صحابی تھے۔حضرت محمید انصاری حضرت حمید انصاری - حضرت زبیر بیان کرتے ہیں کہ مدینے کی پتھر پلی زمین کے ایک کاریزہ یعنی کھیتوں کو پانی دینے والی جو چھوٹی نالی ہوتی ہے اس کے متعلق ان کا ایک انصاری شخص سے جھگڑا ہو گیا جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔رسول اللہ صلی علیکم کے پاس وہ جھگڑا فیصلے کے لیے آیا۔وہ دونوں زمین کو اس کاریزہ سے پانی دیا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت زبیر سے فرمایا کہ زبیر تم پانی دو۔(پہلے ان کی زمین تھی) پھر اپنے پڑوسی کے لیے اسے چھوڑ دو۔پانی لگاؤ، پھر اس کا حصہ بھی اس کو دے دو اور آگے چھوڑ دو۔وہ انصاری اس بات پہ ناراض ہو گیا۔اس نے کہا یار سول اللہ ! اس لیے آپ ان کے حق میں یہ فیصلہ دے رہے ہیں کہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔رسول اللہ کی تعلیم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔پھر آپ صلی العلیم نے حضرت زبیر سے فرمایا کہ پہلے تو احسان کے رنگ میں میں نے بات کی تھی کہ تھوڑا سا پانی دے کے اس کو چھوڑو۔اب یہ حق والی بات آرہی ہے کہ تم پانی دو اور اسے روکے رکھو یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک آ جائے۔اپنے کھیتوں کو پورا پانی لگاؤ۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت زبیر کو ان کا پورا حق دلوایا حالانکہ رسول اللہ صلی علیم اس سے پہلے حضرت زبیر کو اپنی رائے کا اشارہ کر چکے تھے جس میں ان کے اور اس انصاری کے لیے بڑی گنجائش تھی۔جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ ہم کو ناراض کر دیا تو آپ صلی الی یکم نے حضرت زبیر" کو صاف اور صحیح فیصلہ دے کر ان کا پورا حق دلا دیا۔عروہ نے کہا کہ حضرت زبیر کہتے تھے کہ بخدا میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی ہے کہ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَر (نساء: 66) کہ تیرے رب کی ہی قسم ہے ہر گز ہر گز مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ تجھے ان باتوں میں حکم نہ بنائیں جو ان کے درمیان اختلافی صورت