اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 217 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 217

ناب بدر جلد 4 217 یعنی مستقل یا تو شادیوں کی صورت میں یا اور کسی ضرورت کے تحت، جب بھی رہائش کی ضرورت ہوتی تھی دے دیے بلکہ مستقل دیتے تھے۔جب حضرت علی کی حضرت فاطمہ سے شادی ہوئی تو آنحضور صلی الم نے حضرت علی سے فرمایا کہ لیے کوئی الگ گھر تلاش کر لو۔حضرت علیؓ نے گھر تلاش کیا اور وہیں حضرت فاطمہ کو بیاہ کر لے گئے۔پھر آنحضور صلی نیلم نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ میں تمہیں اپنے پاس بلانا چاہتا ہوں یعنی میرے قریب آجاؤ۔گھر لے لو۔حضرت فاطمہ نے آپ کو مشورہ دیا، آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں عرض کی کہ آپ حارثہ بن نعمان سے فرما ئیں کہ وہ کہیں اور منتقل ہو جائیں اور یہ جو گھر ان کا ہے وہ ہمیں دے دیں۔آنحضور صلی علیم نے فرمایا کہ حارثہ ہمارے لیے کئی دفعہ منتقل ہو چکے ہیں۔ان کے گھر قریب ہیں وہ جو بھی قریبی گھر ہو تا ہے وہ چھوڑ کے مجھے دے دیتے ہیں۔اب مجھے شرم آتی ہے کہ اس سے دوبارہ منتقل ہونے کا کہوں۔یہ خبر حضرت حارثہ کو پہنچی اور آپ گھر خالی کر کے وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہو گئے اور نبی کریم صلی اللی کام کے پاس آکر عرض کی کہ یارسول اللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ حضرت فاطمہ کو اپنے پاس منتقل کرنا چاہتے ہیں۔یہ میرے گھر ہیں اور یہ بنو نجار کے گھروں میں آپ سے سب سے زیادہ قریب ہیں اور میں اور میر امال اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہیں۔یارسول اللہ ! آپ مجھ سے جو مال چاہیں لے لیں وہ مجھے اس مال سے بہت زیادہ پیارا ہو گا جسے آپ چھوڑ دیں گے۔نبی کریم صلی علیہم نے اس پر فرمایا تم نے سچ کہا۔خدا تعالیٰ تم پر برکت نازل فرمائے۔چنانچہ آپ صلی علیہم نے حضرت فاطمہ کو حضرت حارثہ والے گھر میں بلالیا۔526 حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی شادی ره اس کی کچھ تفصیل سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی بیان فرمائی ہے اس طرح کہ آپ لکھتے ہیں کہ حضرت علی اب تک غالباً آنحضرت صلی علیکم کے ساتھ مسجد کے کسی حجرے وغیرہ میں رہتے تھے مگر شادی کے بعد یہ ضروری تھا کہ کوئی الگ مکان ہو جس میں خاوند بیوی رہ سکیں۔چنانچہ آنحضرت صلی علیہم نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ اب تم کوئی مکان تلاش کرو جس میں تم دونوں رہ سکو۔حضرت علی نے عارضی طور پر ایک مکان کا انتظام کیا اور اس میں حضرت فاطمہ نگار خصتانہ ہو گیا۔اسی طرح رخصتانہ کے بعد آنحضرت صلی میں ہم ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور تھوڑا سا پانی منگا کر اس پر دعا کی۔پھر وہ پانی حضرت فاطمہ اور حضرت علی ہر دو پر یہ الفاظ فرمائے ہوئے چھڑکا کہ اللهُمَّ بَارِكَ فِيهِمَا وَ بارِكْ عَلَيْهِمَا وَبَارِكْ لَهُمَا نَسْلَهُمَا - یعنی " اے میرے اللہ ! تم ان دونوں کے باہمی تعلقات میں برکت دے اور ان کے ان تعلقات میں برکت دے جو دوسرے لوگوں کے ساتھ قائم ہوں اور ان کی نسل میں برکت دے۔" یعنی ذاتی تعلقات بھی اور رشتہ داروں کے تعلقات بھی، معاشرے کے تعلقات بھی۔سب کی برکت کی دعا کی اور فرمایا کہ ان کی نسل میں برکت دے۔پھر آپ اس نئے جوڑے کو اکیلا چھوڑ کر