اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 148
تاب بدر جلد 4 148 کے نام ہو تو پھر نا جائز ہو گا۔اس میں ایک بات سمجھنے والی پر ہے کہ ایک وقتی ذمہ داری ہوتی ہے جسے ادا کرناضروری ہوتا ہے۔اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ ایک شخص کے چار لڑکے ہیں اور اس نے سب سے بڑے لڑکے کو ایم۔اے کی تعلیم دلا دی اور دوسرے چھوٹی جماعتوں میں پڑھ رہے تھے کہ اس کی نوکری ہٹ گئی یا آمد کم ہو گئی اور چھوٹے بچوں کی تعلیم رک گئی۔اب یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اس نے بڑے لڑکے سے امتیاز روا رکھا ہے بلکہ یہ تو اتفاقی بات ہے۔اس کی تو کوشش تھی کہ میں پہلے بڑے لڑکے کو پڑھاتا ہوں پھر دوسروں کو باری باری ایم۔اے تک پڑھاؤں گا یا جہاں تک پڑھ سکتے ہیں پڑھاؤں گا یعنی وقتی ضروریات کے ماتحت اس نے ذمہ داری کو تقسیم کیا۔( نیت نیک تھی) اس وقت یہ کام کر لیتا ہوں جب دوسرے کا وقت آئے گا تو وہ کرلوں گا مگر پھر حالات بدل گئے اور وہ اپنی خواہشات پوری نہ کر سکا۔لیکن اس کے برعکس اگر ایک والد اپنے بڑے لڑکے کو جو عیال دار ہو گیا ہو دو ہزار روپیہ دے کر الگ کر دے کہ تم تجارت کرو مگر جب دوسرے لڑکے بھی صاحب اولاد ہو جائیں تو انہیں کچھ نہ دے تو یہ ناجائز ہے اور امتیازی سلوک ہو گا۔بہر حال ہبہ کے بارے میں یا خاص جائیداد کے بارے میں یہ فقہی مسئلہ ہے جسے ہر ایک کو اپنے سامنے جائیداد کی تقسیم کے وقت یا ہبہ کرتے وقت، وصیت کرتے وقت رکھنا چاہیے۔369 تھوڑی سی کھجوریں جو تمام خندق کھودنے والوں نے کھائیں غزوہ خندق کے موقع پر یہ روایت ہے کہ حضرت بشیر بن سعد ( جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ان ) کی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے میرے کپڑوں میں تھوڑی سی کھجور میں دے کر کہا کہ بیٹی یہ اپنے باپ اور ماموں کو دے آؤ اور کہنا کہ یہ تمہارا صبح کا کھاتا ہے۔آپ کی بیٹی کہتی ہیں میں ان کھجوروں کو لے کر چلی اور اپنے والد اور ماموں کو ڈھونڈھتی ہوئی رسول اللہ صلی علیم کے پاس سے گزری تو رسول اللہ صلی ال یکم نے فرمایا کہ اسے لڑکی ! یہ تیری پاس کیا چیز ہے؟ میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! یہ کھجوریں ہیں۔میری ماں نے میرے والد بشیر بن سعد اور میرے ماموں عبد اللہ بن رواحہ کے لئے بھیجی ہیں۔رسول اللہ صلی علی یم نے فرمایا یہ لاؤ مجھے دے دو۔میں نے وہ کھجوریں آپ کے دونوں ہاتھوں میں رکھ دیں۔آنحضرت صلی علیم نے ان کھجوروں کو ایک کپڑے پر ڈال دیا اور پھر ان کو ایک اور کپڑے سے ڈھانپ دیا اور ایک شخص سے فرمایا کہ لوگوں کو کھانے کے لئے بلا لو۔چنانچہ تمام خندق کے کھودنے والے جمع ہو گئے اور ان کھجوروں کو کھانے لگے اور وہ کھجوریں زیادہ ہوتی گئیں یہاں تک کہ جب اہل خندق کھا چکے تو کھجور میں کپڑے کے کنارے پر سے نیچے گر رہی تھیں۔ایسی برکت پڑی ان میں۔370