اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 138
138 ناب بدر جلد 4 تھے اور ہم شرک کرنے والے تھے۔حضرت بشر بن بر انو نے کہا کہ ہم تو ان لوگوں میں شامل تھے جو شرک کرتے تھے اور تم ہمیں یہ باتیں بتا یا کرتے تھے اور تم ہمیں یہ بتاتے تھے کہ وہ نبی مبعوث ہونے والا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ وہ مبعوث ہو گا اور ہمیں اس کی علامات بتایا کرتے تھے کہ یہ یہ علامتیں ہوں گی۔اب مبعوث ہو گیا ہے تو اب اس نبی پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔سلّام بن مشکم یہودی نے جو قبیلہ بنو نضیر میں سے تھا ( سلام بن مشکم یہود کے قبیلہ بنو نضیر کا سردار اور ان کے خزانے کا نگران بھی ہوتا تھا۔یہ اس عورت زینب بنت حارث کا خاوند تھا جس نے غزوہ خیبر میں آنحضور صلی کم کو زہر آلود گوشت دیا تھا۔بہر حال) اس نے جواب دیا کہ وہ نبی ہمارے پاس وہ نہیں لے کر آیا جسے ہم پہچانتے ہیں اور نہ آپ وہ نبی ہیں جن کا ہم نے تم سے ذکر کیا تھا۔ساری علامتیں پوری ہو گئیں جو یہ کہتے تھے۔کہتے نہیں ہم پر وہ لے کر نہیں آیا جو ہم پہچانتے ہیں۔ساری علامتیں پوری نہیں ہوئیں اس لیے ہم نہیں مانیں گے۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَبُ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَفِرِينَ ( القر : 90) یعنی اور جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس ایک ایسی کتاب آئی جو اس ( تعلیم ) کی جو ان کے پاس تھی تصدیق کر رہی تھی جبکہ حال یہ تھا کہ اس سے پہلے وہ ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے کفر کیا (اللہ سے مدد مانگا کرتے تھے۔پس جب وہ ان کے پاس آ گیا جسے انہوں نے پہچان لیا تو ( پھر بھی) اُس کا انکار کر دیا۔پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہو۔353 جنگ احد کے موقعہ پر نیند اور غنودگی طاری ہونا حضرت زبیر بن عوام بیان کرتے ہیں کہ جب جنگ احد کا رخ پلٹا تو میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلیالم کے قریب پایا۔جب ہم سب بد حواس اور خوف زدہ تھے اور ہم پر نیند نازل کر دی گئی۔ایسی حالت تھی کہ لگتا تھا کہ اونگھ کی حالت ہم پر طاری ہو گئی ہے۔چنانچہ ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کی ٹھوڑی اس کے سینے پر نہ ہو۔یعنی نیند اور غنودگی کی حالت میں سر نیچے ڈھلک گئے تھے۔کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے مُعيَّب بن قشیر کی آواز خواب میں سنائی دے رہی ہے۔وہ کہہ رہا تھا کہ اگر ہمیں فیصلے کا اختیار ہو تا تو ہم کبھی یہاں اس طرح قتل نہ کیے جاتے۔مُعتب بن فقیر انصاری صحابی تھے اور بیعت عقبہ ، غزوہ بدر اور احد میں شامل ہوئے تھے۔میں نے ان کے اس جملے کو یاد کر لیا جب اس طرح خواب کی حالت میں دیکھا تھا۔اس موقع کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَةِ آمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ (آل عمران : 155) کہ پھر اس نے تم پر غم کے بعد تسکین بخشنے کی خاطر اونگھ اُتاری جو تم میں سے ایک گروہ کو ڈھانپ رہی تھی۔جبکہ ایک وہ گروہ تھا کہ جنہیں ان کی جانوں نے فکر مند کر رکھا تھا وہ اللہ کے بارے میں