اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 137

350 تاب بدر جلد 4 137 حضرت بشر غزوہ بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور خیبر میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ شریک ہوئے۔قبیلہ کا سردار مقرر کیا جانا عبد الرحمن بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی نیلم نے فرمایا کہ اے بَنُونَضَلَه ! ( بعض روایت میں بنو سلمہ لکھا ہے کہ) تمہارا سر دار کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جد بن قیس۔آپ نے فرمایا کہ سے کس وجہ سے سر دار مانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ ہم سے زیادہ مال دار ہے۔بڑا امیر آدمی ہے۔بڑا آدمی ہے اس لیے ہم نے اس کو سردار بنالیا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم محض بخل کی وجہ سے اسے معیوب سمجھتے ہیں۔وہ بڑا بخیل ہے ، کنجوس ہے اور اس کی یہ بات ہمیں پسند نہیں ہے۔آپ مصلی الم نے فرمایا کہ بخل سے زیادہ بڑی بیماری کون سی ہے ؟ یہ بخیل ہو ناتو بہت بڑی بیماری ہے۔وہ تمہارا سر دار نہیں ہے اور اس وجہ سے وہ تمہارا سر دار نہیں ہو سکتا۔انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! پھر ہمارا سر دار کون ہے آپ ہی بتادیں ؟ آپ نے فرمایا کہ بشر بن براء بن مَغرُور تمہارا سر دار ہے جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے۔ان کے بارے میں فرمایا کہ یہی تمہارا سر دار ہے اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارا سر دار سفید رنگ والا، گھنگھریالے بالوں والا بشر بن براء بن معرور ہے۔شادی اور اولاد 351 حضرت بشر بن بر او نے حضرت قُبَيْسَه بنت صیفی سے شادی کی جس سے ان کے ہاں ایک بیٹی پید اہوئی جس کا نام عالیہ تھا۔حضرت قبیسہ نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی الغی کمی کی بیعت بھی کی۔352 یہود کا ”محمد“ نام کے نبی کا انتظار حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہود اوس اور خزرج کے مقابلے میں رسول اللہ صلی ایم کے مبعوث ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی العلیم کے واسطے سے فتح کی دعا مانگا کرتے تھے۔آپس میں لڑتے تھے تو یہ دعامانگا کرتے تھے۔یہ نبی جس کی پیش گوئی ہے مبعوث ہونے والا ہے اس کے نام پہ ہمیں فتح عطا کر۔اللہ تعالیٰ سے مانگتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی علیہ کام کو عرب میں سے مبعوث فرمایا تو انہی لوگوں نے آپ کا انکار کیا اور جو بات وہ کہا کرتے تھے اس سے انکاری ہو گئے۔یہی طریقہ ہے ہمیشہ سے انکار کرنے والوں کا۔حضرت معاذ بن جبل اور حضرت بشر بن بر او اور داؤد بن سلمہ نے ان سے ایک دن کہا کہ اے یہود کے گروہ ! اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کر لو۔پہلے تو تم ہم پر محمد نام کے نبی کے ظہور کے ذریعہ فتح مانگتے تھے۔یہ کہا کرتے تھے کہ یہ نبی مبعوث ہو گا جس کا نام محمد ہو گا اور اس کی وجہ سے فتح کی دعا کیا کرتے