اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 120
بدر جلد 4 120 کرتے تھے۔یہیں پر حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تھا۔ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد یعنی حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کی تعداد 40 ہو گئی تھی اور وہ اس گھر سے باہر نکلے تھے۔یہ گھر حضرت ارقم کی ملکیت میں رہا۔پھر آپ کے پوتوں نے یہ گھر ابو جعفر منصور کو فروخت کر دیا۔اس کے بارے میں سیرت خاتم النبیین میں جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے تو 305 تفصیل یہ ہے کہ اسلام کے پہلے تبلیغی مرکز یعنی دارِ ارقم کے بارے میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : آنحضرت صلی یہ کام کو یہ خیال پیدا ہوا کہ مکہ میں ایک تبلیغی مرکز قائم کیا جاوے جہاں مسلمان نماز وغیرہ کے لئے بے روک ٹوک جمع ہو سکیں اور امن و اطمینان اور خاموشی کے ساتھ باقاعدہ اسلام کی تبلیغ کی جاسکے۔اس غرض کے لئے ایک ایسے مکان کی ضرورت تھی جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔چنانچہ آپ نے ایک ٹو مسلم ارقم بن ابی ارقم کا مکان پسند فرمایا جو کوہ صفا کے دامن میں واقع تھا۔اس کے بعد تمام مسلمان یہیں جمع ہوتے، یہیں نماز پڑھتے، یہیں متلاشیان حق آتے۔یعنی جن کو دین کی تلاش تھی اور اسلام کا پیغام سنتے تھے وہ سننے کے لئے اور سمجھنے کے لئے آتے تھے یا آنحضرت صلی الی یم کی صحبت سے فیضیاب ہونے کے لئے آتے تھے " اور آنحضرت صلی للی یکم ان کو اسلام کی تبلیغ فرماتے۔اسی وجہ سے یہ مکان تاریخ میں خاص شہرت رکھتا ہے اور دایر الاسلام کے نام سے مشہور ہے۔آنحضرت صلی این کلم نے قریباً تین سال تک دارِ ارقم میں کام کیا یعنی بعثت کے چوتھے سال آپ نے اسے اپنا مرکز بنایا اور چھٹے سال کے آخر تک آپ نے اس میں اپنا کام کیا۔اپنے اس مشن کو جاری رکھا اور "مور خین لکھتے ہیں کہ دارِ ارقم میں اسلام لانے والوں میں آخری شخص حضرت عمرؓ تھے جن کے 30611 اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور وہ دارِ ارقم سے نکل کر بر ملا تبلیغ کرنے لگ گئے۔ہجرت مدینہ اور مواخات مدینہ ہجرت کے بعد رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے حضرت ارقم کی مواخات حضرت ابو طلحہ زید بن سفل کے ساتھ قائم فرمائی۔307 بدر کے اموال سے ایک تلوار عطا ہونا حضرت از قم غزوہ بدر میں رسول کریم صلی علیم کے ساتھ شامل ہوئے اور آپ صلی للہ ہم نے بدر کے مال غنیمت میں سے ایک تلوار انہیں دی تھی۔حضرت ارقم غزوہ بدر، احد سمیت تمام غزوات میں شریک ہوئے اور نبی کریم صلی علیکم نے آپنے کو مدینہ میں ایک گھر بھی دیا تھا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی الی یکم نے انہیں صدقات کی وصولی کے لئے بھی مقرر کر کے بھجوایا 308