اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 121

اصحاب بدر جلد 4 121 معاہدہ حلف الفضول میں شمولیت 309 تاریخ میں یہ بھی ہے کہ حضرت ارقم معاہدہ حلف الفضول میں بھی شامل ہوئے تھے۔9 وہ معاہدہ جو غریبوں کی مدد کرنے کے لئے اسلام سے پہلے مکہ کے رہنے والے بڑے لوگوں نے کیا تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ کی بھی شامل تھے۔وفات حضرت ارقم کے بیٹے عثمان بن از قم روایت کرتے ہیں کہ میرے والد کی وفات 53 ہجری میں ہوئی۔اس وقت آپ کی عمر 83 سال تھی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کی 55 ہجری میں وفات ہوئی۔عمر کے بارے میں اختلاف ہے کہ اسی سال تھی یا اس سے کچھ اوپر تھی۔حضرت ارقم نے وصیت کی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت سعد بن ابی وقاص پڑھائیں جو صحابی تھے۔ان کی وفات کے بعد حضرت سعد عقیق مقام میں تھے اور وہاں سے دور تھے۔مروان نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی علی ایم کا صحابی کسی غیر حاضر شخص کی وجہ سے دفن نہ کیا جائے۔موجود نہیں ہیں اس لئے صحابی کی نعش کو اس وقت تک رکھا جائے جب تک وہ آنہ جائیں اور چاہا کہ ان کی نماز جنازہ خود پڑھا دیں مگر عبید اللہ بن ارقم نے مروان کی بات نہ مانی اور سعد بن ابی وقاص کے آنے پر حضرت ارقم کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے۔310 میری مسجد میں ایک نماز اور مسجدوں کی ہزاروں نمازوں سے بہتر ان کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ حضرت ارقم نے بیت المقدس جانے کے لئے رخت سفر باندھا، تیاری کی، جانا چاہتے تھے اور رسول کریم صلی علیم کے پاس سفر پر جانے کے لئے اجازت چاہی تو آپ صلی یکم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم وہاں بیت المقدس میں کسی ضرورت کے لئے یا تجارت کی غرض سے جار ہے ہو ؟ حضرت ارقم نے جواب دیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔کوئی کام نہیں ہے اور نہ تجارت کی غرض سے جانا ہے بلکہ بیت المقدس میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔تو اس پر رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں ایک نماز اور مسجدوں کی ہزاروں نمازوں سے بہتر ہے یعنی یہاں مدینے میں سوائے کعبہ کے جس پر حضرت ارقم نے اپنا ارادہ بدل لیا۔311