اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 90
اصحاب بدر جلد 4 الله سة 90 حضرت ابو عبیدہ جزیہ لے کر واپس آئے اور لوگوں کو ان کی واپسی کا علم ہوا تو صبح فجر کی نماز سب لوگوں نے رسول اللہ صلی علیکم کے پیچھے ادا کی۔آپ صلی الیکم نے نماز پڑھا کر جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو ان کو دیکھ کر آپ صلی یکم مسکرائے اور فرمایا کہ لگتا ہے تمہیں معلوم ہو گیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لائے ہیں۔لوگوں نے عرض کیا: جی یارسول اللہ ! آپ صلی الی یکم نے فرمایا پس خوش ہو جاؤ اور اس کی امید رکھو جو تمہارے لیے بہتر ہے۔میں تمہارے بارے میں محتاجی سے نہیں ڈر تابلکہ میں اس بات سے ڈر تاہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کر دی جائے اور پھر تم بڑھ چڑھ کر حرص کرنے لگ جاؤ۔236 جوں جوں دنیاداری میں پڑو گے ، دنیاوی آسائشیں تمہیں مہیا ہوں گی میسر آئیں گی تو حرص میں پڑ جاؤ گے اور وہ تمہیں ہلاک کر دے۔یہ خوف ہے مجھے۔بھوکے رہنے کا خوف کم ہے۔یہ خوف ہے کہ دنیا داری میں پڑ کے ، حرص کر کے تم کہیں اپنے آپ کو ہلاک نہ کر لو۔پس یہ تنبیہ ہے جو ہر ایک کو اپنے سامنے رکھنی چاہیے اور اس کو پیش نظر نہ رکھنے کی وجہ سے آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت جن کے پاس پیسہ آتا جن میں ہمارے لیڈر بھی شامل ہیں وہ اس لالچ میں پیش پیش ہیں۔ان کی دنیا کی لالچ بے شمار بڑھ چکی ہے۔خدا کا نام تو لیتے ہیں لیکن فوقیت دنیاوی مال و حشمت کو ہے۔پس ہمیں اس لحاظ سے اپنی حالتوں کا ہمیشہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ آنحضرت صلی علیکم کی پیشگوئی کے مطابق مال تو آئیں گے لیکن ہمیں اس مال کی وجہ سے اپنے دین کو نہیں بھول جانا چاہیے۔دس ہجری میں حجۃ الوداع کے موقعے پر حضرت ابو عبیدہ نے رسول اللہ صلی الی ایم کے ساتھ حج کیا۔237 جب رسول اللہ صلی علیم کی وفات ہوئی تو لوگوں میں بحث ہوئی کہ آپ صلی الم کی قبر لحد والی ہونی چاہیے یا لحد کے بغیر۔چنانچہ حضرت عباس نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت ابو طلحہ کی طرف ایک ایک آدمی بھجوایا اور فیصلہ ہوا کہ ان میں سے جو آدمی پہلے آئے گا جو وہ بتائے گا ویسی قبر تیار کی جائے گی۔حضرت ابو عبیدہ اہل مکہ کی طرز کے مطابق لحد کے بغیر قبر تیار کرتے تھے جبکہ حضرت ابو طلحہ اہل مدینہ کی طرز کے مطابق لحد والی قبر تیار کرتے تھے۔چنانچہ حضرت ابو طلحہ کی طرف بھیجے ہوئے آدمی کو حضرت ابو طلحہ مل گئے جبکہ حضرت ابو عبیدہ کی طرف بھیجے ہوئے آدمی کو حضرت ابو عبیدہ نہ ملے۔چنانچہ حضرت ابو طلحہ آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی املی کام کے لیے لحد والی قبر تیار کی۔238 خلافت کا انتخاب اور حضرت ابو عبیدہ کا کردار رسول اللہ صلی ایم کی وفات کے فوراًبعد خلافت کے لیے انصار اور مہاجرین کے درمیان جو اختلاف ہوا اس کے بارے میں صحیح بخاری میں بیان ہے۔یہ پہلے بھی میں ایک صحابی کے ذکر میں بیان کر چکا ہوں لیکن یہاں حضرت ابو عبیدہ کے ذکر میں بھی بیان ہو جائے تو بہتر ہے کہ رسول اللہ صلی علی کرم کی وفات کے بعد انصار حضرت سعد بن عبادہ کے گھر میں جمع ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ایک امیر ہم میں سے اور ایک