اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 91

ناب بدر جلد 4 91 امیر تم یعنی مہاجرین میں سے ہو گا۔ان کی طرف حضرت ابو بکر اور حضرت عمررؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح گئے۔حضرت عمرؓ کچھ کہنے لگے مگر حضرت ابو بکڑ نے انہیں خاموش کروا دیا۔حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت صرف اس لیے بولنا چاہتا تھا کیونکہ میں نے ایک تقریر تیار کی تھی جو مجھے بہت پسند تھی اور مجھے ڈر تھا کہ حضرت ابو بکر ویسی بات نہ کہہ سکیں گے لیکن جب حضرت ابو بکر نے تقریر کی تو ایسی شاندار اور فصیح تقریر کی جو تمام تقاریر سے بڑھ کر تھی۔اسی تقریر میں حضرت ابو بکڑنے یہ فرمایا کہ ہم یعنی مہاجرین امیر ہیں اور تم یعنی انصار وزیر ہو۔اس پر حضرت محباب بن منذر نے کہا ہر گز نہیں۔بخد اہم ایسا ہر گز نہیں کریں گے۔ایک امیر تم میں سے ہو گا اور ایک امیر ہم میں سے ہو گا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا: نہیں ہم امیر ہیں اور تم وزیر ہو کیونکہ قریش حسب نسب کے لحاظ سے تم عربوں سے اعلیٰ اور قدیمی ہیں۔پس حضرت ابو بکر نے دو نام پیش کیے کہ عمر یا ابو عبیدہ بن جراح میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو، خلیفہ بنالو۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا نہیں ہم تو آپ کی بیعت کریں گے۔ابو بکر کو کہا کہ ہم تو آپ کی بیعت کریں گے کیونکہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سے سب سے بہتر ہیں اور ہم میں سے رسول اللہ صلی علیکم کے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔یہ کہہ کر حضرت عمر نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان کی بیعت کی اور اس کے بعد لوگوں نے بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔239 بہر حال حضرت ابو بکر کی نظر میں حضرت ابو عبیدہ کا یہ مقام تھا کہ آپ کا نام خلافت کے لیے تجویز فرمایا۔اسی طرح جس طرح پہلے حضرت عمرؓ کے حوالے سے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت عمر نے یہ فرمایا کہ اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو میں انہیں اگلے خلیفہ کے لیے نامزد کرتا کیونکہ وہ آنحضرت صلی لی ایم کی امت کے آنحضرت صلی علیم کے فرمان کے مطابق امین تھے۔جب خلافت کے بارے میں بحث ہوئی تو حضرت ابو عبیدہ نے انصار سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے انصار کے گروہ اتم تو وہ لوگ ہو جنہوں نے سب سے پہلے مدد کی تھی۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اب تم ہی سب سے پہلے اختلاف پیدا کرنے والے ہو جاؤ۔240 خالد بن ولید کی جگہ سپہ سالار مقرر کیا جانا اور فتوحات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جب مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے تو انہوں نے بیت المال کا کام حضرت ابو عبیدہ کے ذمے لگایا۔13 ہجری میں حضرت ابو بکر نے آپ کو شام کی طرف امیر لشکر بنا کر بھیجا۔حضرت عمرؓ نے مسندِ خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بطور سپہ سالار معزول فرما کر حضرت ابو عبیدہ کو سپہ سالار مقرر فرمایا۔241 فتح شام کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ 13 / ہجری میں رومیوں میں کئی اطراف سے لشکر کشی کی گئی۔ایک دستہ کے قائد حضرت یزید بن ابو سفیان تھے۔ابوسفیان کے ایک بیٹے کا نام بھی یزید تھا، یہ پہلے فوت ہو گئے تھے ، جو اردن کے مشرق کی طرف سے حملہ آور ہوئے۔دوسرے کے حضرت شر خبیل