اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 69
اصحاب بدر جلد 4 69 اور زبیر کو بھیجا اور ہم گھڑ سوار تھے۔آپ صلی علیہ ہم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ یہاں تک کہ جب تم روضہ خان تک پہنچو۔یہ ایک مقام ہے تو وہاں تمہیں مشرکوں میں سے ایک عورت ملے گی جس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکوں کے نام ایک خط ہے۔یہ بخاری کی روایت ہے۔168 آپ نے نبی کریم صلی علیم سے ایک حدیث روایت کی ہے مسلم اور بغوی وغیرہ میں ان کی یہ حدیث ہے۔فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علم کو فرماتے سنا کہ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔160 ان کی وفات پھر حضرت ابو بکر صدیق کے عہد خلافت میں 12 ہجری میں 66 سال کی عمر میں ہوئی۔0 ان کا نام گناز تھا۔ولدیت حصین بن یز بوع۔آپ کے نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض کے نزدیک آپ کا نام گناز بن حصین جبکہ بعض کے نزدیک حصین بن گناز تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نام ایمن تھا مگر زیادہ مشہور گناز بن حصین ہی تھے۔171 170 حضرت ابو مرید حضرت حمزہ کے ہم عمر اور ان کے حلیف تھے۔آپ لمبے قد کے مالک تھے اور آپ کے سر کے بال گھنے تھے۔172 حضرت ابومر مد اور ان کے بیٹے حضرت مرشد رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں کو غزوہ بدر میں شرکت کی توفیق ملی۔آپ کے بیٹے حضرت مر تمد واقعہ کر جبیع میں شہید ہوئے۔173 پہلے بیان ہو چکا ہے۔حضرت ابومر نند کے ایک پوتے حضرت انہیں بن مریمہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔وہ فتح مکہ اور غزوہ حنین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔174 بیان ہو ا ہے کہ ربیع الاول دو ہجری کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس شتر سوار مہاجرین کا ایک دستہ اپنے چا حضرت حمزہ بن عبد المطلب کی قیادت میں مدینہ سے مشرق کی جانب سیف البحر علاقہ عبیص کی طرف روانہ فرمایا۔حضرت حمزہ اور ان کے ساتھی جلدی جلدی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کا رئیس اعظم ابو جہل تین سو سواروں کا ایک لشکر لیے ان کے استقبال کو موجود ہے۔دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرائی کرنے لگ گئیں اور لڑائی شروع ہونے والی ہی تھی کہ اس علاقے کے رئیس مجدی بن عمر و الجہنی نے جو دونوں فریقوں کے ساتھ تعلق رکھتا تھا در میان میں پڑ کر بیچ بچاؤ کر وایا اور لڑائی ہوتے ہوتے رک گئی۔یہ مہم سریہ حمزہ بن عبد المطلب کے نام سے مشہور ہے۔75 175 حضرت ابو مرید بھی اس سر یہ میں شامل تھے۔روایت میں ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلا لواء، جھنڈا حضرت حمزہ کو باندھا تھا اور اس سر یہ میں حضرت حمزہ کا یہ جھنڈ ا حضرت ابو مر مد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھائے ہوئے تھے۔176