اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 57

57 24 صحاب بدر جلد 4 نام و نسب و کنیت حضرت ابو عقیل بن عبد اللہ انصاری صاحب الصاع، مسیلمہ کذاب پر آخری وار کرنے والے حضرت ابو عقیل بن عبد اللہ انصاری۔عبد اللہ بن ثعلبہ ان کے والد کا نام تھا۔ان کی وفات 12 ہجری میں جنگ یمامہ میں ہوئی۔ان کا نام عبد الرحمن اراشی بن عبد اللہ تھا۔ان کا پر ان نام عبد العزّی تھا۔اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی علیکم نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا۔آپ کا تعلق قبیلہ بلی کی ایک شاخ بنو انسیف سے تھا اور آپ انصار کے خاندان بنو بحجبا بن گلفہ کے حلیف تھے۔آپ کی کنیت ابو عقیل ہے اور آپ اسی سے مشہور ہیں۔تمام غزوات میں شرکت غزوہ بدر، احد، خندق غرض تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیم کے ہمراہ تھے۔جنگ یمامہ میں بارہ ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت میں شہید ہوئے۔13 143 الله سة قبول اسلام اور نام تبدیل کرنے کا واقعہ ان کے قبولیت اسلام کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلیالی کی مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو ایک دن ایک نوجوان آپ صلی علی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔قبول ایمان کے ساتھ آپ صلی للی کم کی بیعت کا شرف حاصل کیا اور بتوں سے سخت نفرت کا اظہار کیا۔اس موقع پر حضور اکرم صلی علیکم نے ان سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ عبدالعزی۔حضور اکرم صلی الم نے فرمایا نہیں بلکہ آج سے تمہارا نام عبد الرحمن ہے۔انہوں نے ارشاد نبوی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور سب لوگوں سے کہہ دیا کہ میں اب عبدالعزی نہیں بلکہ عبد الرحمن ہوں۔آپ کے اجداد میں ایک شخص اراشہ بن عامر تھا اس کی نسبت سے انہیں اراشی بھی کہا جاتا ہے۔صدقہ کرنے کے لئے ساری رات مزدوری کرنے والے آپ ان صحابہ کرام میں سے تھے کہ جب آنحضرت صلی للی یکم صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تو ساری رات یہ کام کرتے اور جو کچھ ملتا وہ صدقہ کر دیتے۔چنانچہ بخاری میں آپ کے متعلق آتا ہے کہ حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں صدقہ کا حکم ہوا تو ہم اس وقت مزدوری پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔حضرت 144