اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 46

اصحاب بدر جلد 4 موت پر آپ سے بیعت کی۔112 46 غزوہ احد کے دن حضرت ابودجانہ اور حضرت مصعب بن عمیر نے رسول اللہ صلی اللہ نیم کا بھر پور دفاع کیا۔حضرت ابودجانہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور حضرت مصعب بن عمیر اس دن شہید ہوئے۔113 رسول اللہ صلی الم کی تلوار لے کر اس کا حق ادا کرنے والے صحابی حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے احد کے دن ایک تلوار پکڑی اور فرمایا۔من يَأْخُذُ مِتَّى هَذَا ؟ اسے مجھ سے کون لے گا ؟ سب نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور ان میں سے ہر ایک نے کہا۔میں۔میں۔آپ نے پھر فرمایا: فَمَن يَأْخُذُ بحقه۔کون اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا ؟ حضرت انس کہتے ہیں اس پر لوگ رک گئے تو حضرت سماك بن خرشه ابودجانہ نے کہا کہ میں اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔حضرت انس کہتے ہیں کہ انہوں نے تلوار لی اور مشرکوں کے سر پھاڑ دیے۔یہ مسلم کی حدیث ہے۔114 ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابودجانہ نے پوچھا اس کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی علی کرم نے فرمایا: اس سے کسی مسلمان کو قتل نہ کرنا اور اس کے ہوتے ہوئے کسی کافر کے مقابل پر نہ بھاگنا یعنی ڈٹ کر مقابلہ کرنا۔اس پر حضرت ابودجانہ نے عرض کیا میں اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔جب نبی صلی الم نے حضرت ابودجانہ کو تلوار دی تو انہوں نے اس سے مشرکین کے سر پھاڑ دیے۔انہوں نے اس موقعے پر یہ اشعار پڑھے: أَنَا الَّذِي عَاهَدَ نِي خَلِيْلِي وَنَحْنُ بِالسَّفْحِ لَدَى النَّخِيْلِ أَنْ لَّا أَقَوْمَ الدَّهْرَ فِي الْكَيُولِ أَضْرِبْ بِسَيْفِ اللهِ وَالرَّسُولِ میں وہ ہوں جس سے میرے دوست نے وعدہ لیا ہے جبکہ ہم سفح مقام پر کھجور کے درختوں کے پاس تھے اور وہ وعدہ یہ ہے کہ میں لشکر کی پچھلی صفوں میں نہ کھڑا ہوں اور اللہ اور رسول کی تلوار سے دشمنوں سے لڑائی کروں۔حضرت ابو دجانہ تفاخرانہ چال چلتے ہوئے لشکر کی صفوں کے درمیان چلنے لگے تو رسول اللہ صلی الم نے فرما یا زاإِنَّ هَذِهِ مِشْيَةٌ يُبْغِضُهَا اللهُ عَزَوَجَلَّ إِلَّا فِي هَذَا الْمُقَامِ کہ یہ ایسی چال ہے جو اللہ عزوجل کو نا پسند ہے سوائے اس مقام کے یعنی جنگ کے موقعے پر۔115 حضرت زبیر بن عوام کا مشاہدہ حضرت زبیر بن عوام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کریم نے احد کے دن ایک تلوار پیش کی اور فرمايا: مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقہ کہ کون ہے جو اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا ؟ حضرت زبیر کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ ہم میں۔آپ صلی اللہ ہم نے مجھ سے اعراض فرمایا۔رسول اللہ صلی العلیم نے پھر فرمایا کون ہے جو اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا؟ میں نے پھر عرض الرس