اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 566

ناب بدر جلد 4 566 بنت سھل تھا۔حضرت سہیل غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ہمراہ شامل ہوئے اور حضرت عمر کے دورِ خلافت میں آپ کی وفات ہوئی۔نبی ملیالم کا ہجرت مدینہ اور قیام 1286 آنحضرت صلی اللہ نام کی ہجرت مدینہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے جو تحریر فرمایا ہے پیش کرتا ہوں۔آپ لکھتے ہیں کہ جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے، ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اس کے گھر میں ٹھہریں۔جس جس گلی میں آپ کی اونٹنی گزرتی تھی اس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی علیکم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے یا رسول اللہ ایہ ہمارا گھر ہے اور یہ ہمارا مال ہے اور یہ ہماری جانیں ہیں جو آپ کی خدمت کے لیے ہیں حاضر ہیں۔یارسول اللہ ! اور ہم آپ کی حفاظت کرنے کے قابل ہیں۔آپ ہمارے ہی پاس ٹھہریں۔بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تاکہ آپ کو اپنے گھر میں اتروالیں مگر آپ ہر ایک شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے۔" ( جو اس کو حکم ہو گا۔یہی سمجھو کہ جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا وہاں یہ بیٹھ جائے گی یہ وہیں کھڑی ہو گی جہاں خدا تعالیٰ کا منشاء ہوا۔آخر مدینہ کے ایک سرے پر بنو نجار کے یتیموں کی ایک زمین کے پاس جاکر اونٹنی ٹھہر گئی۔آپ نے فرما یا خد اتعالیٰ کا یہی منشاء معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہریں۔پھر فرمایا یہ زمین کس کی ہے ؟ زمین کچھ یتیموں کی تھی۔ان کا ولی آگے بڑھا اور اس نے کہا کہ یارسول اللہ ! یہ فلاں فلاں یتیم کی زمین ہے اور آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔آپ نے فرمایا ہم کسی کا مال مفت نہیں لے سکتے۔آخر اس کی قیمت مقرر کی گئی اور آپ نے اس جگہ پر مسجد اور اپنے مکانات بنانے کا فیصلہ کیا۔"1287 مسجد نبوی کی تعمیر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کی تفصیل سیرت خاتم النبیین میں کچھ اس طرح لکھی ہے کہ مدینہ کے قیام کا سب سے پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر تھا جس جگہ آپ کی اونٹنی آکر بیٹھی تھی وہ مدینہ کے دو مسلمان بچوں سھیل اور شھیل کی ملکیت تھی جو حضرت اسعد بن زرارة کی نگرانی میں رہتے تھے۔یہ ایک افتادہ جگہ تھی۔" یعنی بالکل بنجر ، غیر آباد جگہ تھی۔جس کے ایک حصہ میں کہیں کہیں کھجوروں کے درخت تھے۔" اکاڈ کا درخت لگے ہوئے تھے۔" اور دوسرے حصہ میں کچھ کھنڈرات وغیرہ تھے۔" گرے ہوئے مکان تھے ، کھنڈر تھے۔" آنحضرت صلی علی کرم نے اسے مسجد اور اپنے حجرات کی تعمیر کے لیے پسند فرمایا اور دس دینار میں یہ زمین خرید لی گئی اور جگہ کو ہموار ر کر کے اور درختوں کو کاٹ کر مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہو گئی۔" 1288"