اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 565
اصحاب بدر جلد 4 565 فرمایا کرتے تھے کہ لیت آنِّي عُوَ دِرْتُ مَعَ اَصْحَابِ الْجَبَلِ کہ اے کاش! میں ان پہاڑ والوں کے ساتھ ہو جاتا یعنی مجھے بھی اس دن شہادت عطا ہوتی۔اسی طرح جب حضرت سعد بن ابی وقاص غابتہ جو کہ مدینہ کے شمال مغرب میں واقعہ ایک گاؤں ہے، اپنی جائیدادوں پر جاتے تو شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کرتے۔تین مرتبہ انہیں سلام کہتے۔پھر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑتے اور انہیں کہتے کہ کیا تم ان لوگوں پر سلامتی نہیں بھیجو گے جو تمہارے سلام کا جواب دیں گے۔جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ قیامت کے دن اس کے سلام کا جواب دیں گے۔ایک مرتبہ آنحضرت صلی علیکم حضرت مصعب بن عمیر کی قبر کے پاس سے گزرے تو وہاں رک کر دعا کی اور اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (احزاب:24) کہ مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا اسے سچا کر دکھایا۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالُ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ پس ان میں سے وہ بھی ہیں جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے ہر گز اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک شہید ہوں گے۔تم ان کے پاس آیا کرو۔ان کی زیارت کیا کرو اور ان پر سلامتی بھیجا کرو۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن تک جو بھی ان پر سلامتی بھیجے گا یہ اس کا جواب دیں گے۔آنحضرت صلی ال نیلم کے صحابہ یہاں آتے ان کے لئے دعا کرتے اور سلامتی بھیجا کرتے۔1284 حضرت سهل بن قیس کی بہنیں حضرت شخصی اور حضرت محمرہ بھی آنحضرت صلی علیہ ظلم پر ایمان لائیں اور آپ کی بیعت سے فیضیاب ہوئیں۔15 1285 158 حضرت سہیل بن رافع ”حضرت سُھیل اور ان کے بھائی وہ خوش قسمت تھے جن کو اسلام کے اس عظیم مرکز میں اپنی زمین پیش کرنے کی توفیق ملی۔“ حضرت سهيل بن رافع حضرت سهیل کا تعلق قبیلہ بنو نجار سے تھا۔وہ زمین جس پر مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی ہے وہ آپ اور آپ کے بھائی حضرت سھیل کی ملکیت تھی۔آپ کی والدہ کا نام زغيبه