اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 41
اصحاب بدر جلد 4 41 کے ایک حلیف قبیلے کے خلاف تلوار چلائی اور پھر جب مسلمان اس قبیلے کی حمایت میں نکلے تو ان کے خلاف بھی عین حرم میں تلوار استعمال کی۔پس اس جواب سے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نازل فرمایا مسلمانوں کی تسلی تو ہونی ہی تھی، قریش بھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے۔اور اس دوران میں ان کے آدمی بھی اپنے دو قیدیوں کو چھڑوانے کے لئے مدینہ پہنچ گئے۔جو دو قیدی وہ لے کے آئے تھے یہ گئے ہوئے مسلمان تھے ، جو پکڑ لئے تھے نا۔لیکن چونکہ ابھی تک سعد بن ابی وقاص اور خشبہ واپس نہیں آئے تھے۔جن کی اونٹنی گم ہو گئی تھی وہ واپس نہیں پہنچے تھے۔ان سے مل بھی نہیں سکے اور آنحضرت صلی علی کم کو ان کے متعلق سخت خدشہ تھا کہ اگر وہ قریش کے ہاتھ پڑ گئے تو قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔اس لئے آپ صلی الی یکم نے ان کی واپسی تک قیدیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔جب کا فرقیدیوں کو لینے آئے تو آپ نے کہا جب تک یہ دونوں واپس نہیں آجاتے تمہارے قیدی نہیں چھوڑوں گا اس لئے آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میرے آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیں گے تو پھر میں تمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوں گا۔چنانچہ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو آپ نے فدیہ لے کر دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن ان قیدیوں میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کے دوران میں آنحضرت صلی علی نیم کے اخلاق فاضلہ اور اسلامی تعلیم کی صداقت کا اس قدر گہرا اثر ہو چکا تھا کہ اس نے آزاد ہو کر بھی واپس جانے سے انکار کر دیا اور آنحضرت صلی ای کم کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا اور بالآخر بئر معونہ میں شہید ہوا۔اس کا نام حکم بن کیسان تھا۔99 الله اگر ظلم اور زبر دستی سے مسلمان بنائے جاتے تو اس طرح اسلام قبول نہ ہوتا۔باپ، چا، بھائی اور بھتیجامارا گیا اور صبر کا مظاہرہ ابو حذیفہ کے بارے میں یہ بھی آتا ہے کہ غزوہ بدر کے دن آپ اپنے والد سے مقابلے کے لئے آگے بڑھے کیونکہ والد اُن کے مسلمان نہیں تھے۔کافروں کے ساتھ آئے تھے تو نبی صلی اللہ ہم نے انہیں اس سے روک دیا اور فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔کوئی اور اسے قتل کر دیے گا۔کسی اور کو ان سے لڑنے دو چنانچہ آپ کے والد ، چا، بھائی اور بھتیجے کو قتل کیا گیا۔اس بدر میں وہ سب قتل ہوئے اور حضرت ابوحذیفہ نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا اور اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اس نصرت پر شکر بجالائے جو اس نے رسول اللہ صلی علیم کے حق میں ظاہر کی تھی یعنی فتح عطا فرمائی تھی۔100 جنگ بدر میں حضرت عباس کو قتل نہ کرنے کا ارشاد اور۔۔۔اس واقعہ کے بارے میں ایک اور روایت یہ بھی ملتی ہے کہ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن آنحضرت صلیم نے فرمایا کہ تم میں سے جس کا مقابلہ عباس سے ہو وہ اسے قتل نہ کرے کیونکہ وہ مجبوری میں نکلے ہیں۔قیدی بنالینا، قتل نہ کرنا۔جب ان کے پاس یہ بات پہنچی، کسی نے ان سے کہی تو اس پر حضرت ابوحذیفہ نے آنحضرت صلی علیم کے منہ پر تو نہیں کہا بلکہ کہیں کسی ساتھی سے کہا کہ