اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 550
تاب بدر جلد 4 550 اس سریہ کی تاریخ کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے۔ابن ہشام اور طبری اسے 14 ہجری میں بیان کرتے ہیں مگر ابن سعد نے اسے 16 ہجری میں لکھا ہے۔علامہ قسطلانی اور زرقانی نے ابن سعد کی روایت کو ترجیح دی ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ان ساروں کی ( تحقیق کا) تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لہذا میں نے بھی اسے 6 ہجری میں بیان کیا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے۔واللہ اعلم۔ابن سعد کی روایت کے مفہوم کی تائید بیہقی نے بھی کی ہے مگر اس میں اس واقعہ کے زمانہ کا پتا نہیں چلتا۔1238 صلح حدیبیہ کے دن پہرہ پر مامور صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت سلمہ بن اسلم کا ذکر یوں ملتا ہے کہ حضرت ام عمارہ بیان کرتی ہیں کہ میں صلح حدیبیہ کے روز رسول اللہ صلی علی یم کو دیکھ رہی تھی جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت عباد بن بشر اور حضرت سلمہ بن اسلم دونوں آہنی خود پہنے ہوئے نبی کریم صلی علیم کے پاس کھڑے پہرہ دے رہے تھے۔جب قریش کے سفیر سھیل بن عمرو نے اپنی آواز کو بلند کیا تو ان دونوں نے اسے کہا کہ اپنی آواز کو رسول اللہ صلی علی نام کے سامنے دھیمار کھو، آہستہ رکھو، ہلکی رکھو۔1239 یہ ان کی ایک خاص خدمت کا ذکر ہے جو اس موقعے پر بیان ہوا۔0 1240 145 حضرت سلمہ بن ثابت ان کا نام پورا نام سلمہ بن ثابت بن و قش ہے۔حضرت سلمہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے غزوہ احد میں ابو سفیان نے حضرت سلمہ بن ثابت کو شہید کیا تھا۔۔حضرت سلمہ کے والد حضرت ثابت بن وقش اور چچا حضرت رفاعہ بن وقش اور ان کے بھائی حضرت عمر و بن ثابت بھی غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔اس خاندان کے بہت سارے افراد غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ان کی والدہ کا نام لیلیٰ بنت یمان تھا جو حضرت حذیفہ بن یمان کی بہن تھیں۔1241