اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 549
اصحاب بدر جلد 4 الله 549 چھٹے دن مدینے پہنچ گیا اور آنحضرت صلی علیہ کی کا پتہ لیتے ہوئے سیدھا قبیلہ بنی عبد الاشہل کی مسجد میں پہنچا جہاں آپ صلی علیہم اس وقت تشریف لے گئے ہوئے تھے۔چونکہ ان ایام میں نئے سے نئے آدمی مدینے میں آتے رہتے تھے اس لیے کسی مسلمان کو اس کے متعلق شبہ نہیں ہوا کہ کس نیت سے آیا ہے۔مگر جو نہی یہ مسجد میں داخل ہوا اور آنحضرت صلی علیم نے اسے اپنی طرف آتے دیکھا تو آپ نے فرمایا یہ شخص کسی بری نیت سے آیا ہے۔اونچی آواز میں آپ نے فرمایا۔اس تک یہ الفاظ پہنچ گئے، وہ یہ الفاظ سن کر اور بھی تیزی کے ساتھ آپ کی طرف بڑھا مگر ایک انصاری رئیس اُسید بن حضیر فوراً لپک کر اس کے ساتھ لپٹ گئے اور اس جدوجہد میں ان کا ہاتھ اس کے چھپے ہوئے خنجر پر بھی جاپڑا۔پھر وہ گھبر اکر بولا ، کہ میرا خون میر اخون۔یعنی تو نے مجھے زخمی کر دیا۔جب اسے مغلوب کر لیا گیا تو آنحضرت صلی ا ہم نے اس سے پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ کہ تم کون ہو اور کس ارادے سے آئے ہو ؟ اس نے کہا کہ میری جان بخشی کی جائے تو میں بتادوں گا۔آپ نے فرمایا کہ ہاں اگر تم ساری بات سچ سچ بتا دو تو پھر تمہیں معاف کر دیا جائے گا۔جس پر اس نے سارا قصہ من و عن آنحضرت صلی علی کم کی خدمت میں عرض کر دیا اور یہ بھی بتایا کہ ابوسفیان نے اس سے اس قدر انعام کا وعدہ کیا تھا۔اس کے بعد یہ شخص چند دن تک مدینے میں ٹھہرا اور پھر اپنی خوشی سے ، آنحضرت صلی الم کی باتیں سن کے ، مسلمانوں کے ساتھ رہ کر آنحضرت صلی للی ام کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا۔اسلام لے آیا۔ابوسفیان کو قتل کرنے کی جوابی کارروائی ابوسفیان کی اس خونی سازش نے اس بات کو آگے سے بھی زیادہ ضروری کر دیا کہ کتنے والوں کے ارادے اور نیت سے آگاہی رکھی جائے۔تاکہ پتا لگے کہ ان کی کیا نیت ہے کہ اس طرح کی خفیہ سازشیں بھی کر رہے ہیں۔چنانچہ آپ صلی میں کم نے اس وجہ سے اپنے دو صحابی عمرو بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم، جن کا ذکر ہو رہا ہے ، ان کو سکتے کی طرف روانہ فرمایا اور ابوسفیان کی اس سازش قتل اور اس کی سابقہ خون آشام کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں یہ بھی اجازت دے دی کہ اگر موقع پائیں تو بے شک اسلام کے اس حربی جنگی دشمن کا خاتمہ کر دیں۔مگر جب امیہ اور ان کا ساتھی مکہ میں پہنچے تو قریش ہوشیار ہو گئے اور یہ رو صحابی اپنی جان بچا کر مدینے کی طرف واپس لوٹ آئے۔راستے میں انہیں قریش کے دو جاسوس مل گئے جنہیں روسائے قریش نے مسلمانوں کی حرکات و سکنات کا پتا لینے اور آنحضرت صلی علیہ نیم کے حالات کا علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔اب یہ بھی کوئی تعجب نہیں کہ یہ تدبیر بھی قریش کی کسی اور خونی سازش کا پیش خیمہ ہو ، جیسے پہلے ایک آدمی کو بھیجا تھا۔ان کو بھی بھیجا ہو کہ سازش کر کے نعوذ باللہ آنحضرت صلیالی کم کا قتل کریں مگر خدا کا ایسا افضل ہوا کہ امیہ اور سلمہ بن اسلم کو ان کی جاسوسی کا پتا چل گیا جس پر انہوں نے ان جاسوسوں پر حملہ کر کے انہیں قید کر لینا چاہا مگر انہوں نے سامنے سے مقابلہ کیا۔چنانچہ اس لڑائی میں ایک جاسوس تو مارا گیا اور دوسرے کو قید کر کے وہ اپنے ساتھ مدینے میں واپس لے آئے۔