اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 547
تاب بدر جلد 4 547 آپ نے غزوہ بدر میں صائب بن عبید اور نُعمان بن عمرو کو قید کیا تھا۔حضرت سلمہ بن اسلم حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں جنگ جسر میں شہید ہوئے تھے جو دریائے فرات کے کنارے لڑی گئی تھی۔اس جنگ کی تفصیل، میں گذشتہ خطبات میں بیان کر چکا ہوں۔بہت بڑی جنگ تھی جو مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان لڑی گئی تھی اور جسر پل کو کہتے ہیں۔دریا پر ایک پل بنایا گیا تھا۔اس سے ،جسر نام ہے اس کے ذریعے سے پھر مسلمان دوسرے علاقے میں گئے تھے۔اور اس جنگ میں ایرانیوں کی طرف سے جنگی ہاتھی بھی استعمال ہوئے تھے۔بہر حال جنگ میں دونوں فریقین کا بہت نقصان ہوا۔مسلمانوں کا خاص طور پر بہت نقصان ہوا تھا۔بوقت وفات روایات کے اختلاف کے ساتھ کم و بیش آپ کی عمر 38 سال بیان کی جاتی۔ہے۔کھجور کی چھڑی جو تلوار بن گئی 1234 علامہ نور الدین حلبی کی مشہور کتاب سیرت حلبیہ میں غزوہ بدر کے موقع پر آنحضرت صلی علیم کے معجزات کے ضمن میں بیان ہے کہ غزوہ بدر میں حضرت سلمہ بن اسلم کی تلوار ٹوٹ گئی تو آنحضرت صلی اینیم نے آپ کو کھجور کی چھڑی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کے ساتھ لڑائی کرو۔حضرت سلمہ بن اسلم نے جیسے ہی اس چھڑی کو اپنے ہاتھ میں لیا تو وہ ایک بہترین تلوار بن گئی اور وہ بعد میں ہمیشہ آپ کے پاس رہی۔1235 شرح زرقانی اور دلائل نبوت میں ہے کہ بدر کے روز حضرت سلمہ بن اسلم کی تلوار ٹوٹ گئی تو خالی ہاتھ رہ گئے اور بغیر کسی ہتھیار کے تھے۔آنحضرت صلی اہل علم نے انہیں ایک چھڑی دیتے ہوئے فرمایا اس کے ساتھ لڑائی کرو تو وہ ایک بہترین تلوار بن گئی جو یوم جسر میں شہید ہونے تک آپ کے پاس رہی۔1236 الله س ابن سعد غزوہ خندق کے ذکر کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر مہاجرین کا جھنڈا حضرت زید بن حارثہ کے پاس تھا اور انصار کا جھنڈ ا حضرت سعد بن عبادہ کے پاس تھا۔رسول اللہ صلی علیکم نے حضرت سلمہ بن اسلم کو دوسو آدمیوں پر نگران مقرر کیا تھا۔ان جھنڈوں کے نیچے جو مختلف پارٹیاں تھیں ان پر نگران مقرر کیے گئے تھے تو حضرت سلمہ کو دو سو آدمیوں پر نگران مقرر کیا گیا تھا اور حضرت زید بن حارثہ کو تین سو آدمیوں پر نگران مقرر کیا گیا تھا اور ان کی یہ ڈیوٹی مقرر فرمائی کہ وہ مدینے کا پہرہ دیں گے اور بآواز بلند تکبیر پڑھتے رہیں گے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ بنو قریظہ کی طرف سے جہاں بچے وغیرہ حفاظت کی غرض سے رکھے گئے تھے اس جگہ پر حملے کا اندیشہ تھا۔1237 نبی اکرم علی ایم کے قتل کی ایک سازش اور خدائی نصرت آنحضرت صلی اللہ روم کے قتل کی ایک سازش ہوئی تھی اور اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد