اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 535

اصحاب بدر جلد 4 535 حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے جنت البقیع میں حضرت سعد بن معاذ کی قبر کھودی تھی۔جب ہم مٹی کا کوئی حصہ کھودتے تو مشک کی خوشبو آتی یہاں تک کہ ہم لحد تک پہنچ گئے۔جب ہم قبر کھود چکے تو رسول اللہ صلی علیکم تشریف لائے۔حضرت سعد کا جنازہ قبر کے پاس رکھا گیا۔پھر آپ کی یہ کم نے نماز جنازہ پڑھائی۔راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اتنی کثرت سے آدمی دیکھے جنہوں نے جنت البقیع کو بھر دیا تھا۔1199 عبد الرحمن بن جابر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد کی قبر تیار ہو چکی تو چار افراد حارث بن اوس، اسيد بن حضير ، ابونائلہ سلكان بن سلامه اور سلمه بن سَلَامه بن وقش حضرت سعد کی قبر میں اترے۔رسول اللہ صلی الی و کم حضرت سعد کے قدموں کی جانب کھڑے تھے۔جب حضرت سعد کو قبر میں اتار دیا گیا تو آپ صلی للی کیم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا۔آپ نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہا۔آپ کے ساتھ تمام صحابہ نے بھی تین مرتبہ سبحان اللہ کہا۔یہاں تک کہ جنت البقیع گونج اٹھا۔پھر رسول اللہ صلی علیم نے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا۔آپ کے ساتھ تمام صحابہ نے بھی اللہ اکبر کہا۔یہاں تک کہ جنت البقیع اللہ اکبر سے گونج اٹھا۔رسول اللہ صلی علیم سے عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ ! ہم نے آپ کے چہرے کی تبدیلی دیکھی اور آپ نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہا۔اس کی کیا وجہ ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ سعد پر قبر میں تنگی ہوئی اور انہیں دبایا گیا۔اگر اس سے کسی کو نجات ہوتی تو سعد کی ضرور ہوتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اسے کشادہ کر دیا۔1200 مِسْوَر بن رِفَاعَه قُرَظی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ کی والدہ انہیں لحد میں اتارنے کے لیے آئیں تو لوگوں نے انہیں واپس بھیج دیا۔رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو۔وہ آئیں اور قبل اس کے کہ ان کی قبر پر اینٹ اور مٹی ڈالی جاتی انہوں نے حضرت سعد کو لحد میں دیکھا اور کہا مجھے یقین ہے کہ تم اللہ کے پاس ہو۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت سعد کی قبر پر ان کی والدہ سے تعزیت کی اور ایک جانب بیٹھ گئے۔مسلمانوں نے قبر پر مٹی ڈال کر اسے برابر کر دیا اور اس پر پانی چھڑک دیا تو رسول صلى ال علم قبر کے پاس تشریف لائے کچھ دیر وہاں ٹھہرے اور پھر دعا کی اور واپس تشریف لے گئے۔حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علی یم اور آپ کے دو ساتھیوں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے بعد مسلمانوں پر کسی کی جدائی اتنی شاق نہ تھی جتنی حضرت سعد بن معاذ کی۔حضرت سعد بن معاذ کی عمر وفات کے وقت 37 سال تھی۔1201 رسول اللہ صلی العلیم نے حضرت سعد بن معاذ کی والدہ کو فرمایا کیا تمہارا غم ختم نہ ہو گا اور تمہارے آنسو نہیں ھمیں گے کیونکہ تمہارا بیٹا وہ پہلا شخص ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ مسکرایا اور جس کے لیے عرش لرز اٹھا۔1202 جب رسول اللہ صلی علیم نے حضرت سعد کو دفن کیا اور ان کے جنازے سے لوٹے تو آپ کے آنسو آپ کی داڑھی پر بہ رہے تھے۔1203