اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 534
اصحاب بدر جلد 4 534 باقیوں نے ( ترجمہ ) کیا ہے کہ لرز اٹھا ہے یا کانپ اٹھا۔آپ نے فرمایا کہ جھومنے لگ گیا یعنی عالم آخرت میں خدا کی رحمت نے خوشی کے ساتھ سعد کی روح کا استقبال کیا۔“ عرش کے جھومنے سے یہ مراد ہے۔” ایک عرصہ کے بعد جب آپ کو کسی جگہ سے کچھ ریشمی پار چات ہدیۂ آئے تو بعض صحابہ نے انہیں دیکھ کر ان کی نرمی اور ملائمت کا بڑے تعجب کے ساتھ ذکر کیا اور اسے ایک غیر معمولی چیز جانا۔آپ نے فرمایا کیا تم اس کی نرمی پر تعجب کرتے ہو ؟ خدا کی قسم جنت میں سعد کی چادر میں ان سے بہت زیادہ نرم اور بہت زیادہ اچھی ہیں۔بخاری اور مسلم کی آدھی احادیث میں جو پہلے ذکر ہوئی ہیں وہاں رومال کا ذکر ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہاں اس کا ترجمہ چادر میں کیا ہے۔بہر حال عربی کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے لحاظ سے کپڑے کو بھی کہتے ہیں۔حضرت سعد کی والدہ کے اشعار 11956 حضرت سعد کی والدہ آپ کے غم میں روتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہی تھیں۔وَيْلُ أُمَّ سَعْدِ سَعْدًا بَرَاعَةً وَنَجْدًا بَعْدَ أَيَادِيَالَهُ وَهَجْدًا مُقَد مَّا سَد بِهِ مَسَدا ام سعد کو سعد کی جدائی پر افسوس ہے جو ذہانت اور شجاعت کا پیکر تھا۔جو بہادری اور شرافت کا مجسمہ تھا۔اس محسن کی بزرگی کے کیا کہنے جو سب خلا پُر کرنے والا سر دار تھا۔اس پر رسول اللہ صلی للی کم نے فرمایا: كُلُّ الْبَوَا كِي يَكْذِ بْنَ إِلَّا أُمَّ سَعْدٍ کہ کسی کے مرنے پر ہر رونے والی جھوٹ بولتی ہے۔غیر ضروری مبالغے سے کام لیتی ہے سوائے سعد کی والدہ کے۔طبقات الکبریٰ کا یہ حوالہ ہے۔1196 سعد کا جنازہ فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں حضرت سعد بھاری بھر کم آدمی تھے جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہنے لگے کہ ہم نے کسی آدمی کا جنازہ اس قدر ہلکا نہیں دیکھا جتنا حضرت سعد کا تھا اور یہ کہتے جاتے تھے کہ ایسا ان کے بنو قریظہ کے متعلق فیصلے کی وجہ سے ہوا ہے یعنی اس کو منفی رنگ دینا چاہتے تھے۔رسول اللہ صلی علیکم کو جب اس کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! سعد کا جنازہ جو تمہیں ہلکا لگا تو وہ اس لیے کہ سعد کا جنازہ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ایک دوسری روایت کے مطابق آنحضرت صلی ا ہم نے فرمایا کہ ستر ہزار فرشتے سعد بن مُعاذ کے جنازے پر حاضر ہیں جو آج سے قبل کبھی زمین پر نہیں اترے۔97 1197 حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی علی رام کو حضرت سعد بن معاذ کے جنازے کے آگے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔98 1198