اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 533
بدر جلد 4 533 خیمہ تھا جہاں مریض رکھے جاتے تھے ” اور عموماً مسجد کے صحن میں خیمہ لگا کر مسلمان زخمیوں کا علاج کیا کرتی تھی۔مگر باوجود اس غیر معمولی توجہ کے سعد کی حالت رو به اصلاح نہ ہوئی اور اسی دوران میں بنو قریظہ کا واقعہ پیش آگیا جس کی وجہ سے سعد کو غیر معمولی مشقت اور کوفت برداشت کرنی پڑی اور ان کی کمزوری بہت بڑھ گئی۔انہی ایام میں ایک رات سعد نے نہایت گریہ وزاری سے یہ دعا کی کہ اے میرے مولا! تو جانتا ہے کہ میرے دل میں یہ خواہش کس طرح بھری ہوئی ہے کہ میں اس قوم کے مقابل میں تیرے دین کی حفاظت کے لیے جہاد کروں جس نے تیرے رسول کی تکذیب کی اور اسے اس کے وطن سے نکال دیا۔اے میرے آقا ! میرے خیال میں اب ہمارے اور قریش کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن اگر تیرے علم میں کوئی جنگ ابھی باقی ہے تو مجھے اتنی مہلت دے کہ میں تیرے رستے میں ان کے ساتھ جہاد کروں لیکن اگر ان کے ساتھ ہماری جنگ ختم ہو چکی ہے تو مجھے اب زندگی کی تمنا نہیں ہے۔مجھے اس شہادت کی موت مرنے دے۔لکھا ہے کہ اسی رات سعد گاز خم کھل گیا اور اس قدر خون بہا کہ خیمے سے باہر نکل آیا اور لوگ گھبرا کر خیمہ کے اندر گئے تو سعد کی حالت دگر گوں تھی۔آخر اسی حالت میں سعد نے جان دے دی۔آنحضرت علی علیکم کو سعد کی وفات کا سخت صدمہ ہوا اور واقعی اس وقت کے حالات کے ماتحت سعد کی وفات مسلمانوں کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان تھی۔سعد کو انصار میں قریباً قریباً وہی حیثیت حاصل تھی جو مہاجرین میں ابو بکر صدیق کو حاصل تھی۔اخلاص میں، قربانی میں، خدمت اسلام میں، عشق رسول میں یہ شخص ایسا بلند مرتبہ رکھتا تھا جو کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا کرتا ہے اور اس کی ہر حرکت وسکون سے یہ ظاہر ہو تا تھا کہ اسلام اور بانی اسلام کی محبت اس کی روح کی غذا ہے اور بوجہ اس کے کہ وہ اپنے قبیلہ کار میں تھا اس کا نمونہ انصار میں ایک نہایت گہرا عملی اثر رکھتا تھا۔ایسے قابل روحانی فرزند کی وفات پر آنحضرت صلی علیکم کا صدمہ ایک فطری امر تھا مگر آپ نے کامل صبر سے کام لیا اور خدائی مشیت کے سامنے تسلیم ورضا کا سر جھکا دیا۔اس وقت سعد کی ماں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ کہا ہے جب سعد کا جنازہ اٹھا تو سعد کی بوڑھی والدہ نے بتقاضائے محبت کسی قدر بلند آواز سے ان کا نوحہ کیا اور اس نوحہ میں زمانہ کے دستور کے مطابق سعد کی بعض خوبیاں بیان کیں۔آنحضرت صلی ا لم نے اس نوحہ کی آواز سنی تو گو آپ نے اصولاً نوحہ کرنے کو پسند نہیں کیا مگر فرمایا کہ نوحہ کرنے والیاں بہت جھوٹ بولا کرتی ہیں لیکن اس وقت سعد کی ماں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ کہا ہے۔یعنی جو خو بیاں سعد میں بیان کی گئی ہیں وہ سب درست ہیں۔اس کے بعد آنحضرت صلی علیم نے نماز جنازہ پڑھائی اور دفنانے کے لیے خود ساتھ تشریف لے گئے اور قبر کی تیاری تک وہیں ٹھہرے رہے اور آخر وہاں سے دعا کرنے کے بعد تشریف لائے۔غالباً اسی دوران میں کسی موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ لِمَوْتِ سَعْدٍ یعنی سعد کی موت پر خدائے رحمان کا عرش جھومنے لگ گیا ہے۔