اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 474
ب بدر جلد 4 474 تم پہلے ان سے سلوک کر رہے ہو مہاجرین سے کرتے رہو، تمہارے گھروں میں بھی رہتے رہیں گے۔مؤاخات قائم رہے گی جس طرح یہ سلسلہ چل رہا ہے۔لیکن اگر تم پسند کرو تو یہ اموال میں مہاجرین میں تقسیم کر دوں جس کے نتیجہ میں وہ تمہارے گھروں سے نکل جائیں گے۔مال سارا ان کو مل جائے گا لیکن وہ تمہارے گھروں سے پھر نکل جائیں گے۔کوئی حق نہیں رہے گا جو پہلے ایک قائم کیا گیا تھا۔اس پر حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ دونوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی العلم ! آپ یہ اموال مہاجرین میں تقسیم فرما دیں اور وہ ہمارے گھروں میں اسی طرح ہوں گے جیسا کہ پہلے تھے۔ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔آپ یہ تمام مال انہی میں تقسیم کر دیں۔انصار کو دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ان کا جو حق ہے اور مہاجرین اور انصار کی جو مواخات قائم ہوئی ہوئی ہے، جو حق ہے ہمارے گھروں میں آنے جانے کا، رہنے کا وہ بھی اسی طرح قائم رہے گا اور انصار نے بآواز بلند عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم راضی ہیں اور ہمارا سر تسلیم خم ہے۔اس پر رسول اللہ صلی الم نے فرمایا اے اللہ ! انصار اور انصار کے بیٹوں پر رحم فرما۔حضرت سعد کو تلوار عطا ہونا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللی علم کو جو مال کے عطا فرمایا وہ آپ نے مہاجرین میں تقسیم فرمایا اور انصار میں سے دو صحابہ کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیاوہ دونوں صحابہ جو انصار کے تھے ضرورت مند تھے وہ دونوں حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابو دجانہ تھے اور آپ نے حضرت سعد بن معاذ کو ابن ابی حقیق کی تلوار عطا فرمائی۔1118 حضرت سعد کی والدہ کی وفات اور نبی اکرم علی ایم کی نماز جنازہ غائب حضرت سعد کی والدہ حضرت عمرہ بنت مسعودؓ جو صحابیات میں سے تھیں ان کی وفات اس وقت ہوئی جب رسول اللہ صلی علیم غزوہ دومۃ الجندل کے لیے تشریف لے گئے تھے۔یہ غزوہ ربیع الاول 5 ہجری میں ہو ا تھا۔حضرت سعد اس غزوہ میں آپ کے ہم رکاب تھے۔سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ کی والدہ کی وفات اس وقت ہوئی جب آنحضرت صلی علیکم مدینہ سے باہر تھے۔سعد نے عرض کیا کہ میری والدہ کی وفات ہو گئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں۔آپ نے نماز جنازہ پڑھائی حالانکہ انہیں فوت ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ایک مہینے کے بعد انہیں خبر پہنچی تھی۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی علیم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ پر تھی اور وہ اس کو پورا کرنے سے پہلے ہی وفات پاگئی تھیں۔تو رسول اللہ صلی علیم نے فرما یا تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔سب سے افضل صدق۔۔۔۔۔پانی! حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نبی کریم صلی ا یکم کی خدمت میں