اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 472

تاب بدر جلد 4 472 ابو جہل بھی ہے، عتبہ بھی ہے، شیبہ بھی ہے، امیہ بن خلف بھی ہے۔جب اس نے یہ کہا تو انہوں نے اسے مارا۔اس نے کہا اچھا میں تمہیں بتاتا ہوں۔یہ ہے ابو سفیان یعنی کہ ابو سفیان بھی ان میں شامل ہے۔جب انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس سے پھر پوچھا تو اس نے کہا کہ مجھے ابوسفیان کا کوئی علم نہیں لیکن یہ ابو جہل اور عتبہ اور شیبہ اور امیہ بن خلف لوگوں میں موجود ہیں۔یہ جو گروہ آیا ہوا ہے یا ایک لشکر بدر کے قریب ٹھہرا ہوا ہے اس میں یہ یہ لوگ موجود ہیں لیکن ابوسفیان نہیں ہے۔جب اس نے ایسا کہا تو انہوں نے پھر اسے مارا۔رسول اللہ صلی املی کام اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے یہ صورت دیکھی تو سلام پھیرا اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !جب وہ تم سے سچ بولتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب وہ تم سے جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ یہ لڑکا جو کہہ رہا ہے ٹھیک کہہ رہا ہے۔پھر فرمایا کہ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے۔یعنی جو دشمنوں کے نام لیے تھے۔اور بتایا کہ یہ بدر کا میدان ہے یہاں فلاں کرے گا۔راوی کہتے ہیں آپ اپنا ہاتھ زمین پر رکھتے تھے کہ یہاں یہاں۔راوی کہتے ہیں ان میں سے کوئی اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر نہیں ہٹا یعنی جو دشمن تھے وہیں گرے اور مرے جہاں رسول الله صلى ال عوام نے ہاتھ سے نشان دہی کی تھی۔1112 جنگ احد کے دن آپ کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے جانا غزوۂ احد سے قبل ایک جمعہ کی شام حضرت سعد بن معاذ، حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت سعد بن عبادہ مسجد نبوی میں ہتھیار پہنے رسول اللہ صلی علیم کے دروازے پر صبح تک پہرہ دیتے رہے۔غزوۂ احد کے لیے جب نبی کریم صلی علی یکم مدینے سے نکلنے لگے اور رسول اللہ صلی علی یکم اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور کمان کندھے پر ڈال لی اور نیزہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تو دونوں سعد یعنی حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ آپ کے آگے آگے دوڑنے لگے۔یہ دونوں صحابہ زرہ پہنے ہوئے تھے اور باقی لوگ آنحضرت صلی علی یکم کے دائیں اور بائیں تھے۔1113 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے غزوہ احد کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ " آپ صلی للہ یکم صحابہ کی ایک بڑی جماعت کے ہمراہ نماز عصر کے بعد مدینے سے نکلے۔قبیلہ اوس اور خزرج کے رؤسا سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ آپ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے اور باقی صحابہ آپ کے دائیں اور بائیں اور پیچھے چل رہے تھے۔“ 1114<< جنگ احد میں ثابت قدم رہنے والے غزوۂ احد کے موقعے پر جو صحابہ رسول اللہ صلی علیم کے پاس ثابت قدمی سے کھڑے رہے ان میں حضرت سعد بن عبادہ بھی تھے۔1115 جب رسول اللہ صلی للی کم غزوہ احد سے مدینہ واپس تشریف لائے اور اپنے گھوڑے سے اترے تو