اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 471

تاب بدر جلد 4 471 ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے جنہوں نے شرک کیا بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقینا یہ ایک بڑا ہمت والا کام ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا که وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقِّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيرٌ (1108) اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ بعد اس کے کہ حق ان پر خوب کھل چکا ہے اس حسد کی وجہ سے جو ان کی اپنی ہی جانوں سے پیدا ہو ا ہے چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لے آنے کے بعد تمہیں پھر کافر بنا دیں پس تم اس وقت تک کہ اللہ اپنے حکم کو نازل فرمائے انہیں معاف کرو اور ان سے در گزر کرو اور اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا پورا قادر ہے۔اور نبی کریم صلی میں کم عفو کو ہی مناسب سمجھتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا۔آخر اللہ نے ان کو اجازت دے دی جب رسول اللہ صلی علیہم نے بدر کے مقام پر ان کا یعنی کافروں کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی میں کفار کے، قریش کے بڑے بڑے سرغنے مار ڈالے تو عبد اللہ بن ابی بن سلول اور جو اس کے ساتھ مشرک اور بت پرست لوگ تھے تب وہ کہنے لگے کہ اب تو یہ سلسلہ شان دار ہو گیا ہے۔کافروں کی یہ شکست دیکھ کر تب ان کو یقین آیا انہوں نے رسول اللہ صلی علیم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کرلی اور مسلمان ہو گئے۔1111 جنگ بدر کے موقعہ پر حضرت سعد م کا جانثارانہ اظہار عشق و وفا غزوہ بدر کے موقعے پر نبی کریم صلی علیہم نے جب صحابہ سے مشاورت کی تو حضرت سعد بن عبادہ نے اس موقع پر جو کہا اس کے بارے میں ایک روایت میں تذکرہ ملتا ہے۔حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی یکم کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے گفتگو کی۔آپ صلی علیم نے ان سے اعراض فرمایا۔پھر حضرت عمرؓ نے گفتگو کی، مشورے دینے چاہیے۔آپ نے ان سے بھی اعراض فرمایا۔پھر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ ہم سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں سمندر میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے۔اگر آپ ہمیں بَرَكَ الْغِمَادُ، یمن کا ایک شہر ہے جو مکے سے پانچ رات کی مسافت پر سمندر کے کنارے واقع ہے ، اس تک ان کے جگر مارنے کا حکم دیں تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی العلیم نے لوگوں کو بلایا۔وہ چلے یہاں تک کہ بدر میں اترے۔پہ بات سن کے پھر آپ اپنے ساتھیوں کو ہمراہ لے کر چلے اور بدر کے مقام تک پہنچے۔وہاں قریش کے پانی لانے والے آئے اور ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ لڑکا بھی تھا۔انہوں نے اسے پکڑ لیا یعنی مسلمانوں نے اسے پکڑ لیا۔رسول اللہ صلی للی یکم کے صحابہ اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھتے رہے۔کیونکہ پہلے یہی پتا لگا تھا کہ ابوسفیان اپنے ایک بڑے لشکر کے ساتھ یا شاید گروہ کے ساتھ آرہا ہے۔بہر حال ان سے ابو سفیان کے بارے میں پوچھتے رہے۔وہ یہ کہتا رہا کہ مجھے ابوسفیان کے بارے میں کچھ علم نہیں لیکن یہ ابو جہل اور عتبہ اور شیبہ اور اُمیہ بن خلف ہیں۔یہ ضرور یہاں بیٹھے ہوئے ہیں،