اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 452
بدر جلد 4 452 آنحضرت صلی ال یکم کی خدمت میں جب حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی علیہ سلم کو نہیں پتا تھا کہ ان کی شادی ہو گئی ہے۔زعفران کا نشان ڈالتے تھے تو مطلب تھا کہ شادی ہو گئی ہے۔بہر حال آنحضرت صلی علیہ ہم نے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ عرض کیا جی ہاں۔آپ صلی میں ہم نے فرمایا کس سے ؟ انہوں نے کہا کہ انصار کی ایک عورت سے تو آپ نے فرمایا کتنا مہر دیا ہے۔تو انہوں نے عرض کیا کہ ایک گٹھلی کے برابر سونا یا کہا سونے کی گٹھلی۔نبی صلی علیم نے فرمایا کہ ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کا ہی سہی۔ان کی حیثیت کے مطابق ان کو ولیمہ کی دعوت کی طرف توجہ دلائی۔شہادت اور جذبہ عشق و وفا میں ڈوبا ہوا ایک پیغام 1071 حضرت سعد بن ربیع غزوہ بدر و اُحد میں شامل ہوئے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔غزوہ احد کے روز رسول اللہ صلی صل الکریم نے فرمایا میرے پاس سعد بن ربیع کی خبر کون لائے گا؟ ایک شخص نے عرض کیا کہ میں۔چنانچہ وہ مقتولین میں جاکر تلاش کرنے لگے۔حضرت سعد نے اس شخص کو دیکھ کر کہا تمہارا کیا حال ہے۔اس نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی العلیم نے بھیجا ہے تاکہ میں آپ صلی اللی کم کے پاس تمہاری خبر لے کے جاؤں تو حضرت سعد نے کہا کہ آنحضور صلی یک کم کی خدمت میں میر اسلام عرض کرنا اور آپ صلی لینک کو یہ خبر دینا کہ مجھے نیزے کے بارہ زخم آئے ہیں اور میرے سے لڑنے والے دوزخ میں پہنچ گئے ہیں یعنی جس نے بھی میرے سے لڑائی کی اس کو میں نے مار دیا ہے اور میری قوم کو یہ کہنا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی عذر نہیں ہو گا اگر رسول اللہ صلی للی یکم شہید ہو جائیں اور تم لوگوں میں سے کوئی ایک بھی زندہ رہا۔بیان کیا جاتا ہے کہ جو شخص ان کے پاس گیا تھا وہ حضرت ابی بن کعب تھے۔حضرت سعد نے حضرت ابی بن کعب سے کہا اپنی قوم سے کہنا کہ تم سے سعد بن ربیع کہتا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور ایک اور روایت بھی ہے کہ اور جو عہد تم لوگوں نے عقبہ کی رات رسول اللہ صلی علیم سے کیا تھا اس کو یاد کرو۔اللہ کی قسم ! اللہ کے حضور تمہارے لیے کوئی عذر نہ ہو گا اگر کفار تمہارے نبی صلی اہل علم کی طرف پہنچ گئے اور تم میں سے کوئی ایک آنکھ المدرسة حرکت کر رہی ہو یعنی کوئی شخص بھی زندہ باقی رہے تو اللہ کے نزدیک یہ کوئی عذر نہیں ہو گا۔حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ میں ابھی وہیں تھا یعنی حضرت سعد کے پاس ہی تھے تو حضرت سعد بن ربیع کی وفات ہو گئی۔اس وقت وہ زخموں سے چور تھے۔میں رسول اللہ صلی علی کم کی خدمت میں واپس حاضر ہوا اور آپ کو سب بتادیا کہ یہ گفتگو ہوئی تھی۔یہ ان کی حالت ہے اور اس طرح شہید ہو گئے۔اس پر آپ میلی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔وہ زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کا خیر خواہ رہا۔حضرت سعد بن ربیع اور حضرت خارجہ بن زید کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔172 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت سعد کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اس طرح تحریر فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیکم بھی میدان میں اتر آئے ہوئے تھے اور شہداء کی نعشوں کی