اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 439

صحاب بدر جلد 4 439 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت محمد بن مسلمہ کو اپنی مدد کے لیے خط لکھا اور ان کو لکھا کہ وہ حضرت علی کے خلاف ان کی مدد کریں۔اس پر ان تینوں نے انکار کیا۔حضرت سعد نے امیر معاویہ کو یہ اشعار لکھ کر بھیجے کہ مُعَاوِيَ دَاؤُكَ الرَّاءِ الْعَيَاءِ وَلَيْسَ لِمَا تَجِيءُ بِهِ دَوَاءُ فَلَمْ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا يَشَاءُ ايَدُعُونِي أَبُو حَسَنٍ عَلِيٌّ وَقُلْتُ لَهُ أَعْطِنِي سَيْفًا بَصِيرًا تَمِيزُ بِهِ الْعَدَاوَةُ وَالْوَلَاء اتَطْمَعُ فِي الَّذِي أَعْيَا عَلِيًّا عَلَى مَا قَدُ طَعْتَ بِهِ الْعَفَاءِ لَيَوْمٌ مِنْهُ خَيْرٌ مِنْكَ حَيًّا وَمَيْتًا أَنْتَ لِلْمَرْءِ الْفِدَاءِ ترجمہ ان کا یہ ہے کہ اے معاویہ ! تیری بیماری سخت ہے۔تیرے مرض کی کوئی دوا نہیں۔کیا تو اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ ابو حسن یعنی حضرت علی نے مجھے لڑنے کے لیے کہا تھا مگر میں نے ان کی بات بھی نہیں مانی اور میں نے ان سے کہا کہ مجھے ایسی تلوار دے دیں جو بصیرت رکھتی ہو اور مجھے دشمن اور دوست میں 1035 فرق کر کے بتادے۔اے معاویہ ! کیا تو امید رکھتا ہے کہ جس نے لڑائی کرنے کے لیے حضرت علی کی بات نہ مانی ہو وہ تیری بات مان لے گا۔حالانکہ حضرت علی کی زندگی کا ایک دن تیری ساری زندگی اور موت سے بہتر ہے اور تو ایسے شخص کے خلاف مجھے بلاتا ہے۔اسد الغابہ کی یہ روایت ہے۔اس میں واقعہ درج ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ امیر معاویہ نے حضرت سعد سے پوچھا کہ ابو تراب ! ( یہ حضرت علی کی کنیت تھی) کو برا کہنے سے آپ کو کس چیز نے منع کیا ہے ؟ ان کو آپ برا نہیں کہتے تھے۔حضرت سعد نے فرمایا وہ تین باتیں جو رسول اللہ صلی علی یم نے ان کے بارے میں فرمائی ہیں اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جاتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ان تین باتوں کی وجہ سے میں کبھی ان کو یعنی حضرت علی کو برا نہیں کہوں گا۔نمبر ایک یہ کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی نیلم نے حضرت علی ہو ایک غزوے میں اپنے پیچھے چھوڑا۔اس پر حضرت علی نے آپ سے عرض کی کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں۔اس پر حضرت رسول اللہ صلی لی ہم نے فرمایا کیا تو اس بات پر خوش نہیں کہ تیر امیرے ساتھ ویسا ہی تعلق ہے جیسا کہ ہارون کا موسیٰ کے ساتھ تھا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ میرے بعد مجھے نبوت کا مقام حاصل نہیں ہے۔نمبر دو بات یہ کہی کہ غزوہ خیبر کے موقعے پر رسول اللہ صلی الی تم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں ایسے شخص کو اسلامی جھنڈ اعطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔اس پر ہم نے اس کی خواہش کی، ہر ایک میں خواہش پیدا ہوئی کہ جھنڈا ہمیں دیا جائے ہم بھی اللہ سے اور رسول سے محبت رکھتے ہیں۔پس آپ صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ علی کو بلاؤ۔ہم میں سے کسی کو نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ علی کو بلاؤ۔حضرت علی آئے۔ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔رسول اللہ صلی اللہ ہم نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب دہن