اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 430

تاب بدر جلد 4 430 بھجوا دیا۔حضرت عمرؓ نے اس مقام کو پسند کیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ پیشتر اس کے کہ شاہ ایران کے ساتھ جنگ کی جائے تمہارا فرض ہے کہ ایک نمائندہ وفد شاہ ایران کے پاس بھیجو اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دو۔چنانچہ انہوں نے اس حکم کے ملنے پر ایک وفد یزدجرد کی ملاقات کے لیے بھجوا دیا۔جب یہ وفد شاہ ایران کے دربار پر پہنچا۔شاہ ایران نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے پوچھو کہ یہ کیوں آئے ہیں ؟ جب اس نے یہ سوال کیا تو وفد کے رئیس حضرت نعمان بن منقرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے رسول کریم صلی الیکم کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اسلام کو پھیلائیں اور دنیا کے تمام لوگوں کو دین حق میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔اس حکم کے مطابق ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور آپ کو اسلام میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔یزد جر داس جواب سے بہت برہم ہوا اور کہنے لگا کہ تم ایک وخشی اور مردار خور قوم ہو۔تمہیں اگر بھوک اور افلاس نے اس حملے کے لیے مجبور کیا ہے تو میں تم سب کو اس قدر کھانے پینے کا سامان دینے کو تیار ہوں کہ تم اطمینان سے اپنی زندگی بسر کر سکو۔حالانکہ ابتدا ان کی طرف سے ہی ہوئی تھی اور پھر الزام بھی مسلمانوں کو دے رہا تھا۔بہر حال پھر کہنے لگا کہ اسی طرح تمہیں پہننے کے لیے لباس بھی دوں گا۔تم یہ چیز میں لو اور اپنے ملک واپس چلے جاؤ۔یہاں بارڈر پر بیٹھے اپنی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہو اس کو چھوڑ دو اور میں جس طرح اس علاقے پر قبضہ کرنا چاہتا ہوں مجھے کرنے دو۔تم ہم سے جنگ کر کے اپنی جانوں کو کیوں ضائع کرنا چاہتے ہو ؟ جب وہ بات ختم کر چکا تو اسلامی وفد کی طرف سے حضرت مغیرہ بن زرارہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا آپ نے ہمارے متعلق جو کچھ بیان کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔ہم واقعی میں ایک وحشی اور مردار خور قوم تھے۔سانپ اور بچھو اور ٹڈیاں اور چھپکلیاں تک کھا جاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور اس نے اپنار سول ہماری ہدایت کے لیے بھیجا۔ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس کی باتوں پر عمل کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہم میں ایک انقلاب پیدا ہو چکا ہے اور اب ہم میں وہ خرابیاں موجود نہیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے۔اب ہم کسی لالچ میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ہماری آپ سے جنگ شروع ہو چکی ہے۔اب اس کا فیصلہ میدان جنگ میں ہی ہو گا۔دنیوی مال و متاع کا لالچ ہمیں اپنے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا۔یزدجر د نے یہ بات سنی تو اسے سخت غصہ آیا اور اس نے ایک نوکر سے کہا کہ جاؤ اور مٹی کا ایک بورا لے آؤ۔جب مٹی کا بورا آیا تو اس نے اسلامی وفد کے سردار کو آگے بلایا اور کہا چونکہ تم نے میری پیشکش کو ٹھکرادیا ہے اس لیے اب اس مٹی کے بورے کے سوا تمہیں کچھ اور نہیں مل سکتا۔وہ صحابی نہایت سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھے۔انہوں نے اپنا سر جھکا دیا اور مٹی کا بورا اپنی پیٹھ پر اٹھا لیا۔پھر انہوں نے ایک چھلانگ لگائی اور تیزی کے ساتھ اس کے دربار سے نکل کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو بلند آواز سے کہا۔آج ایران کے بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی زمین ہمارے حوالے کر دی ہے اور پھر گھوڑوں پر سوار ہو کر تیزی سے نکل گئے۔بادشاہ نے جب ان کا یہ نعرہ سنا تو وہ کانپ اٹھا اور اس نے اپنے درباریوں سے کہا دوڑو اور مٹی کا بورا ان سے واپس لے آؤ۔یہ تو بڑی بدشگونی ہو گئی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی مٹی ان کے حوالے کر دی ہے مگر وہ اس وقت تک گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت دور نکل چکے تھے۔