اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 409
ب بدر جلد 4 409 میں شریک تھے۔آنحضرت صلی الم نے ہجرت مدینہ کے بعد حضرت سائب بن عثمان اور حارثہ بن شراقه انصاری کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔ان کا ذکر آنحضرت صلی اللہ نام کے تیر انداز صحابہ میں کیا جاتا ہے۔حضرت سائب بن عُمان غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر غزوات میں آنحضور صلی ال یکم کے ساتھ شامل ہوئے۔950 مدینہ کے امیر مقرر ہونا غزوہ بواظ میں آنحضور صلی علیم نے آپ کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا تھا۔غزوۂ بواظ جو 2 ہجری میں ہوئی ہے اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ ربیع الاول کے آخری ایام یار بیچ الثانی کے شروع میں آنحضرت صلی علی کم کو قریش کی طرف سے کوئی خبر موصول ہوئی جس آپ مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر خود مدینہ سے نکلے اور اپنے پیچھے سائب بن عثمان بن مظعون کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔لیکن قریش کا پتہ نہیں چل سکا آپ بُواط تک پہنچ کر واپس تشریف لائے۔بواظ مدینہ سے قریباً اڑتالیس میل کے فاصلے پر قبیلہ جھینہ کے پہاڑ کا نام ہے۔952 حضرت سائب بن عثمان جنگ یمامہ میں شامل تھے۔جنگ یمامہ حضرت ابو بکر کے عہد خلافت میں 12 ہجری میں ہوئی تھی جس میں آپ کو ایک تیر لگا جس کی وجہ سے بعد میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کی عمر 30 سال سے کچھ اوپر تھی۔53 126 حضرت سائب بن مظعون رض ย حضرت سائب بن مَطْعُون ، حضرت عثمان بن مظعون کے سگے بھائی تھے۔آپ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے اولین مہاجروں میں سے تھے۔حضرت سائب کو غزوہ بدر میں شامل ہونے کی 954 سعادت نصیب ہوئی۔4 آنحضرت صلی ال جب غزوہ بواط کے لیے روانہ ہوئے تو بعض روایات کے مطابق آپ نے حضرت سعد بن معاذ کو اور بعض کے مطابق حضرت سائب بن عثمان کو اپنے پیچھے امیر مقرر فرمایا اور ایک روایت میں حضرت سائب بن مظعون کا نام بھی ملتا ہے۔155 آنحضرت مصل اللوم کے ساتھ تجارت کرنے کا اعزاز پانے والے حضرت سائب کو آنحضرت صلی علی نام کے ساتھ تجارت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔چنانچہ سنن