اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 403
تاب بدر جلد 4 403 پہلے حذیفہ کے بیٹے کہلاتے تھے بعد میں جب ان کو آزاد کر دیا تو پھر یہ آزاد کردہ غلام یا دوست بن گئے۔محمد بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوحذیفہ اور حضرت سالم مولى ابو حُذَيْفَہ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو دونوں نے حضرت عباد بن بشر کے گھر قیام کیا۔2 مہاجرین کی امامت کروانے والے 932 حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ جب اولین مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو انہوں نے قبا کے قریب عُضبہ کے مقام پر قیام کیا۔حضرت سالم ان کی امامت کروایا کرتے تھے کیونکہ وہ ان سب سے زیادہ قرآن کریم جانتے تھے۔933 مسعود بن هنيدة بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے رسول اللہ صلی علیم کے ہمرکاب قبا میں قیام کیا۔وہاں ایک مسجد دیکھی جس میں صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کیار کرتے تھے اور حضرت سَالِم مولى ابو حذیفہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔934 چار میں سے ایک، جن سے قرآن سیکھنے کا ارشاد ہوا رو۔935 حضرت سالم " قرآن کریم کے قاری تھے۔آپؐ ان چار صحابہ میں شامل تھے جن کے بارے میں آنحضور علی ایم نے فرمایا تھا کہ ان سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " علم و فضل میں بھی بعض آزاد شدہ غلاموں نے بہت بڑا رتبہ حاصل کیا۔چنانچہ حضرت سَالِم بن مَعْقِل مَوْلى أَبِي حُذَيْفَةٌ خاص الخاص علماء صحابہ میں سے سمجھے جاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ نے قرآن شریف کی تعلیم کے لیے جن چار صحابیوں کو مقرر فرمایا تھا ان میں سے ایک سالم بھی تھے۔"936 رض جو پھر اس کے بارے میں تاریخ کے مطابق مزید بیان کرتے ہیں کہ "سالم بن معقل ابو حذيفة بن عُتبہ کے معمولی آزاد کردہ غلام تھے مگر وہ اپنے علم و فضل میں اتنی ترقی کر گئے کہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے جن چار صحابیوں کو قرآن شریف کی تعلیم کے لیے مسلمانوں میں مقرر فرمایا تھا اور اس معاملہ میں گویا انہیں اپنا نائب بننے کے قابل سمجھا تھا ان میں ایک سالم بھی تھے۔"937 ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا کہ ان چار صحابہ سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرو۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نمبر ایک پھر حضرت سَالِم مولى أبو حُذَيْفَه ، نمبر تین حضرت أبي بن كعب اور نمبر چار حضرت معاذ بن جبل ر 938 شکر ہے اللہ تعالیٰ کہ جس نے تم جیسے قاری کو میری امت میں سے بنایا ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کو آنحضور صلی لینکم کے پاس آنے میں کچھ دیر ہو گئی۔آنحضور صلی اللہ ہم نے دیر سے آنے کا سبب دریافت فرمایا تو کہنے لگیں کہ ایک قاری نہایت ہی خوش