اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 402
402 124 صحاب بدر جلد 4 حضرت سالم مولى ابى حديقه نام و نسب و کنیت ان کا نام حضرت سالم مولی آبی حذیفہ ہے۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور والد کا نام مغقل تھا۔حضرت سالم کے والد کا نام معقل تھا جیسا کہ میں نے کہا۔ایران کے علاقے اضطخَرُ کے رہنے والے تھے۔ان کا شمار کبار صحابہ میں ہوتا ہے اور آپ مہاجرین میں بھی شامل ہیں۔آپ نے آنحضور صلی علیکم سے قبل مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔رسول اللہ صلی العلیم نے حضرت سالم اور مُعاذ بن مَاعِض " کے درمیان مواخات کارشتہ قائم فرمایا۔930 حضرت سَالِم تبيته بنت يَعَارُ کے غلام تھے جو حضرت ابوحذیفہ کی بیوی تھیں۔حضرت ثبيته نے حضرت سالم کو سائبہ کرتے ہوئے آزاد کیا تھا۔اس زمانے میں غلاموں کا عام قانون یہ ہو تا تھا کہ اگر کسی کو آزاد کر دیا جائے اور یہ آزاد شدہ غلام اگر مر جائے تو اس کے مال کا حصہ دار، جو وارث ہو تا تھا وہ آزاد کرنے والا شخص ہوا کرتا تھا اور سائبہ کرتے ہوئے لکھا ہے یعنی آزاد کیا۔سائبہ اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اسے آزاد کر دے اور اس کو فی سبیل اللہ چھوڑ دے۔اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اب اس غلام کے مرنے کے بعد اس کے مال پر آزاد کرنے والے کا کوئی حق نہیں ہے۔حضرت سالم کو حضرت ابو حذیفہ نے اپنا میبلی بنا لیا تھا۔اس کے بعد آپ کو سالم بن ابی حذیفہ بھی کہا جانے لگا۔حضرت ابوحذیفہ نے اپنی بیجی فاطمہ بنتِ ولید سے ان کی شادی بھی کروائی تھی۔لے پالکوں کو ان کے باپوں کا بیٹا کہہ کر پکارو 931 کہا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اُدعُوهُمْ لا بَابِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَ مَوَالِيكُمْ ، وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَاتُم بِهِ وَ لكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ((احزاب:6) ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ چاہیے کہ ان لے پالکوں کو ان کے باپوں کا بیٹا کہ کر پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ فعل ہے اور اگر تم کو معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو ( بہر حال وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دینی دوست ہیں اور جو تم غلطی سے پہلے کر چکے ہو اس کے متعلق تم پر کوئی گناہ نہیں لیکن جس بات پر تمہارے دل پختہ ارادہ کر بیٹھے ہوں ( وہ قابل سزا ہے ) اور اللہ ( ہر تو بہ کرنے والے کے لیے) بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت سالم مولى ابو حُذَيْفَہ کہلانے لگے۔رم